ناندیڑ، 20 فروری: ضلع میں آج جماعت دہم (10ویں) کے سالانہ امتحانات 178 مراکز پر پُرامن ماحول میں شروع ہوگئے۔ مراٹھی مضمون کے پرچے کے لیے رجسٹرڈ 44 ہزار 991 طلبہ میں سے 43 ہزار 949 طلبہ حاضر رہے، جبکہ حاضری کی شرح 97.68 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
انتظامیہ کے مطابق ہر امتحانی مرکز پر فلائنگ اسکواڈ کی نگرانی میں زوم ویب کاسٹ، ڈرون اور ویڈیو کیمروں کے ذریعے مسلسل مانیٹرنگ کی گئی، جس کے باعث تمام 178 مراکز پر امتحان نقل سے پاک اور منظم انداز میں منعقد ہوا۔
تاہم بعض مراکز پر امتحان کے دوران غیر متعلقہ افراد کے احاطے میں پائے جانے کی اطلاع ملی ہے، جسے بھارتیہ نیائے سنہیتا کی دفعہ 163 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ضلع کلکٹر راہول کردیلے نے سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 21 فروری سے جماعت بارہویں (12ویں) سمیت آئندہ دسویں اور بارہویں کے تمام پرچوں کے دوران اگر کوئی غیر متعلقہ شخص امتحانی مرکز کے اطراف پایا گیا تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، خواہ وہ اسکول کا ملازم یا ادارے کا نمائندہ ہی کیوں نہ ہو۔
اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ کلکٹر زینت چندر دونتولا نے جماعت بارہویں کے امتحان کے دوران دہیلی تانڈہ مرکز کا دورہ کیا، جہاں بعض غیر مجاز اور بغیر شناختی کارڈ کے افراد مرکز کے اطراف گھومتے ہوئے پائے گئے۔ اس واقعہ کے بعد ضلع کلکٹر نے تمام امتحانی مراکز پر سختی سے عمل درآمد کے احکامات جاری کیے ہیں۔
کل 21 فروری 2026 کو جماعت بارہویں کے اہم مضمون ریاضی کا پرچہ منعقد ہوگا۔ اس موقع پر ضلع کلکٹر و ضلع ویجیلنس کمیٹی کے صدر راہول کردیلے نے تمام سینئر افسران کو مختلف امتحانی مراکز کا دورہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق جماعت دہم اور بارہویں کے امتحانات نقل سے پاک اور نظم و ضبط کے ساتھ جاری ہیں اور طلبہ و سرپرستوں کی جانب سے مثبت ردعمل موصول ہو رہا ہے۔