نئی دہلی 9 مئی. نقل و حمل اور قومی شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے آج کانگریس کا نام لئے بغیر الزام لگا یا کہ بی جے پی کے خلاف اقلیتوں میں خوف پیدا کرکے اسے الیکشن میں بھنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہاں یو این آئی سے ایک خصوصی ملاقات میں مسٹر گڈکری نے کہا کہ ماضی میں بی جے پی کو اقتدار کی دہلیز پار کرنے سے روکنے کے لئے بھی یہی حربہ اختیار کیا جاتا تھا اور پانچ سال قبل اس محاذ پر بدترین ناکامی کے باوجود اسی کو آزمانے کی کوشش کی جارہی ہے جسے ہندستانی مسلم معاشرہ اچھی طرح سمجھ چکا ہے اور اس کا اثر وہ اپنے انتخابی حلقے میں براہ راست دیکھ چکے ہیں۔
یہ پوچھےجانے پر کہ ازالے کی صورت کیا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیمی ترقی ہر شکایت کو ختم کرنے کی متحمل ہے اور بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت اسی فکر پر عمل پیرا ہے ۔ اس رُخ پر انہوں نے مہاراشٹر میں انجمن اسلام کا دائرہ ناگ پور تک وسیع کرنےکی مثال دی۔ایک سوال کے جواب میں مسٹر گڈکری نے کہا کہ بی جے پی رنگ اور نسل، ذات اور مذہب کی کسی تفریق کے بغیر ملک کے تمام لوگوں کی ترقی اور خوشحالی کی پابند ہے۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خوف دلانے والوں کی طرف دیکھنے کے بجائےسابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر عبدالکلام اور ویپروکے سربراہ عظیم پریم جی سے تحریک حاصل کریں۔
وزیر موصوف نے کہا کہ تقریباً ہر مذہب کے ماننے والوں کے یہاں کوئی نہ کوئی روایت تکلیف دہ ہوتی ہے جس سے نجات لازمی ہے ، تین طلاق کا تعلق بھی ایسی ہی روایت سے ہے جس کا ازالہ ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے سیاسی مخالفت کے لئے اس کا بھی استحصال کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں کو اس حوالے سے بھی بیداری سے کام لینا چاہئے۔