اسرائیل نےایک مجرمانہ فعل کیاہےجس کاجواب ضروری ہے،ترجمان حماس خالدقدومی#ARYNews pic.twitter.com/SAXVDxNztN
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) July 31, 2024
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ایک سینیئر عہدیدار نے کہا ہے کہ تنظیم کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کا بدلہ لیا جائے گا۔
حماس کے زیرِ انتظام الاقصیٰ ٹیلی ویژن چینل کے مطابق موسیٰ ابو مرزوق نے اس حملے کو ’بزدلانہ کارروائی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا بدلہ لیا جائے گا۔
اسرائیلی فوج کا اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر ردعمل دینے سے انکار
اسرائیلی فوج نے حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کی تہران میں ہلاکت پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
آئی ڈی ایف نے سی این این اور اے ایف پی سمیت متعدد خبر رساں اداروں کی جانب سے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر ردِعمل کے جواب میں کہا ہے کہ وہ ’ہنیہ کی ہلاکت کے بارے میں غیرملکی میڈیا رپورٹس پر ردعمل نہیں دے گا۔‘
اسرائیل اپنے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ جو وہ غزہ میں حاصل کرنا چاہتا تھا نہیں کر سکا بریگیڈئیر (ر) حارث نواز#ARYNews pic.twitter.com/zOAKzb0maJ
— ARY NEWS (@ARYNEWSOFFICIAL) July 31, 2024
اسرائیل کی جانب سے اب تک اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
تاہم کچھ اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے اس صورتحال پر ردعمل سامنے آیا ہے جیسے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیر ورثہ ایمیچی ایلیاہو نے ایکس پر لکھا کہ ہنیہ کی موت ’دنیا کو ایک بہتر جگہ بناتی ہے۔‘
ایلیاہو نے ایکس پر اپنی پوسٹ کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’دنیا کو پاک کرنے کا یہ صحیح طریقہ ہے۔‘ اس سے پہلے کہ ’اب کسی امن معاہدے کی گنجائش نہیں اور نہ ہی کسی کے لیے کوئی رحم۔‘
سمیع ابو زہری کا کہنا تھا کہ سربراہ کا قتل جارحیت میں اضافہ ہے لیکن ان پر حملہ کر کے دشمن اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کرسکےگا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ حماس یروشلم کو آزاد کرانے کے لیے کھلی جنگ کرنے کیلئے تیار ہے اور مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کیلئے ہر قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
یاد رہے حماس کے سربراہ کو ایران کے شہر تہران میں شہید کر دیا گیا۔
ایرانی ٹی وی کے مطابق ان کی رہائش گاہ کو علی الصبح نشانہ بنایا گیا، حملے میں ان کا ایک محافظ بھی شہید ہوا۔
حماس نے سربراہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے ان کے سربراہ اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے، وہ ان دنوں ایران کے صدرکی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے ایران میں مقیم تھے۔
واضح رہے غزہ جنگ کے دوران حماس کے سربراہ کے خاندان کے درجنوں افراد شہید ہوچکے ہیں، جن میں انکے بھائی بیٹے بہو پوتے پوتیاں بھی شامل ہیں۔