فلسطینی گروپ حماس نے بدھ کو تصدیق کی ہے کہ ایران کے دارالحکومت تہران میں اس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اپنے ایک محافظ کے ساتھ قتل کردیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حماس نے اپنے بیان میں کہا: ’بھائی، رہنما، مجاہد اسماعیل ہنیہ، تحریک کے سربراہ، تہران میں اپنے ہیڈکوارٹر پر صیہونی حملے میں اس وقت قتل کر دیے گئے، جب وہ نئے (ایرانی) صدر کی تقریبِ حلف برداری میں شریک تھے۔‘
نئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی تقریب حلف برداری منگل (30 جولائی) کو تہران میں منعقد ہوئی تھی، جس میں پاکستان سمیت کئی ممالک کے سربراہان اور رہنماؤں نے شرکت کی۔ حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ بھی اس تقریب میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے۔
اس سے قبل بدھ کی صبح ایرانی پاسداران انقلاب نے اسماعیل ہنیہ کی موت کی اطلاع دی تھی۔ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق حماس کے سربراہ ہنیہ کے قتل کی تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے اور جلد نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
فوری طور پر کسی نے بھی اس قتل کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن شبہ فوری طور پر اسرائیل پر گیا ہے، جس نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے اس فلسطینی گروپ کے رہنماؤں کو قتل کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔