اسلم تجھے سلام !

یہ مضمون پہلی بار 19 اگست 2019 کو شائع ہوا تھا

مدھیہ پردیش سے ایک نہایت ھی حوصلہ افزا خبر آئی جس میں زارونزار ملت کے نوجوانوں کیلئے عبرت کاسامان اور نمونہ ھے اور امید کی ایک ایسی کرن ھے جس سے لاکھوں لوگوں کو روشنی ملے گی مدھیہ پردیش کے ضلع اشوک نگر کے تحت چندیری علاقہ کا یہ واقعہ ھے جہاں اسلم نامی ایک نوجوان رھتا ھے پیشہ سے وہ ایک ڈرائیور ھے جو میجک چلا کر روزی روٹی کماتا ھے کل جب وہ چندیری کے راجگھاٹ پہونچا تو تین لڑکوں سے کسی بات پر کہا سنی ھو گئی شام کو جب اسلم گھر لوٹ رھا تھا تب تینوں لڑکوں نے اسلم کو بائک سے اوورٹیک کیا اور اپنے گاؤں میں پہونچ کراسلم کو گاڑی سے اتار کر پیٹنا شروع کر دیا اسلم نے پہلے منت سماجت کی لیکن جب دیکھا کہ وہ کسی طرح سننے کو تیار نہیں ہیں تو اس نے جارحانہ انداز اختیار کیا اور اپنی جان بچانے کیلئے زبردست جوابی حملہ کیا دفاعی حملہ اتنا شدید تھا کہ دو حملہ آور موقع پر ھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ تیسرا قریبی ہسپتال میں حملہ کی تاب نہ لا کر چل بسا اور یوں اسلم نے ایک ھی جھٹکے میں تین لنچنگ کرنے والوں کو موت کے منھ میں پہونچا دیا اس واقعہ سے پورے علاقہ میں کہرام مچ گیا اور تقریبا پانچ سو لوگ موقعہ واردات پر جمع ھو گئے اور اسلم کو گھیر لیا اسلم نے مزید ہمت وحوصلے کا مظاھرہ کیا اور پورے مجمع کو چیلنج کرتے ھوئے کہا کہ اگر کسی نے مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی کو شش کی تو اس کو چھٹی کا دودھ یاد دلادوں گا اور ایسا سبق سکھاؤں گا کہ نانی یاد آجائے گی آخر کار کسی کی ہمت نہیں ھوئی کہ وہ آگے بڑھ سکے بھیڑ میں سے کسی نے پولیس کو فون کر دیا موقع پر پولیس پہونچی اور اسلم کو گرفتار کر لیا موصولہ اطلاعات کے مطابق پولیس کمل ناتھ سرکار کے اشارے پر پورے واقعہ کو چھیڑ خانی کا ایک واقعہ قرار دیکر اسلم کو مجرم بنانے میں مصروف ھے حالانکہ اس نے جو کچھ کیا وہ اپنے دفاع میں کیا جسکی اجازت قانون دیتا ھے اور اس لحاظ سے وہ بالکل بھی مجرم نہیں ھے مگر مقامی کانگریس ایم ایل اے کے دباؤ میں پولیس نہایت گھناؤنا کردار ادا کر رھی ھے یقینا یہ کانگریس کا منافقانہ کردار ھے جس کی وجہ سے وہ زوال پذیر ھے اور اگر اسکا یہی رویہ مسلمانوں کے ساتھ رہا تو اس کا خاک میں ملنا طے ھے اور اس کی تباھی میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا ھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔


یہ بھی پڑھیں

مقتولین کے اعزہ کا دعویٰ ’قتل ذاتی رنجش میں کیے گئے‘ اسلم پولس حراست میں


اسلم نے جو کارنامہ انجام دیا وہ موجودہ حالات میں نہایت ضروری ھے اس نے ثابت کردیا کہ وہ مظلومانہ موت کو بالکل پسند نہیں کرتا بلکہ وہ سرفروشانہ مدافعانہ اور مجاھدانہ زندگی سے پیار کرتا ھے جسکی تعلیم اسلام دیتا ھے اس نے لنچنگ کرنے والے بھگوا دھاریوں کو ایسا سبق دیا ھے جو بھت دنوں تک انہیں یاد رھے گا اس نے بزدلوں کو گھر میں گھس کے مارا اور شجاعت وجوانمردی کی ایسی مثال قائم کی کہ دنیا دنگ رہ گئی!!

اس نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ٹیپو سلطان کی اولاد ھے جسکے نام سے انگریزوں کی نیند اڑ جاتی تھی وہ منظر کتنا خوبصورت ھوگا جب وہ تن تنہا پانچ سو سنگھیوں کو چلینج کر رھا تھا لیکن کسی نے ان میں ماں کا دودھ نہیں پیا تھا کہ وہ اس کے چیلنج کو قبول کر سکے یہی منظر اس پورے واقعہ کا نچوڑ اور لب لباب ھے کہ جب ایک مسلمان کی ایمانی غیرت بھڑک اٹھتی ھے تو کفر کا جتھا بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا آج اسی غیرت کو بر انگیختہ کرنے کی ضرورت ھے آئے دن لنچنگ کی بزدلانہ ویڈیو دیکھ کر لوگوں کے دل افسردہ ھو گئے تھے لیکن آج اسلم کے واقعہ کو سن کر بھت سے لوگوں کو حوصلہ ملے گا جن پر پژمردگی چھا گئی تھی اور جو بھگوا دھاریوں کی دہشت گردی سے خوفزدہ تھے یقینا اسلم نے آج ثابت کردیا کہ وہ ملت کے نوجوانوں کا ہیرو ھے ھم اسلم کی ہمت و حوصلہ کو سلام کرتے ھیں اور اس کی جراءت و عزیمت کو سراہتے ھیں یقینا اس نے اپنے کردار وعمل سے ملت کا سر اونچا کیا ھے اور ساتھ ھی کمل ناتھ سرکار سے امید کرتے ھیں کہ وہ انصاف کے تقاضے کو پورا کرے گی ورنہ اس کا بھی حشر کرناٹک کی سرکار طرح ھوگا۔۔فقط۔۔

محمدنصر الله ندوی

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading