اسرائیلی یرغمالوں کے اہل خانہ سے ملنے پہنچے نیتن یاہو کو شدید مخالفت کا سامنا

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ ہنوز جاری ہے۔ اس درمیان غزہ میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کے اہل خانہ اور حال ہی میں رِہا کیے گئے کچھ لوگوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور ان کے جنگی کابینہ کے اراکین سے ملاقات کی۔ میٹنگ کا انعقاد کرنے والے ’یرغمالوں اور لاپتہ فیملی فورم‘ کے ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ اچھی نہیں رہی اور اہل خانہ کے اراکین اور حال ہی میں آزاد ہوئے کچھ یرغمالوں نے نیتن یاہو اور جنگی کابینہ کے دیگر اراکین پر چیخنا شروع کر دیا۔

حال ہی میں قید سے آزاد ہوئی ایک خاتون نے وزیر اعظم اور دیگر کابینہ اراکین کو بتایا کہ یرغمال خواتین ’بدتر حالت‘ میں رہ رہی تھیں اور انھیں پریشان کیا جا رہا تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حماس کے دہشت گرد انھیں حجاب پہننے کے لیے مجبور کر رہے تھے، تاکہ فوجی حملوں کے دوران اسرائیلی فوج ان کے اور مسلم خواتین کے درمیان فرق نہ کر سکے۔

میٹنگ میں حصہ لینے والوں نے بتایا کہ نیتن یاہو ان کی بات ٹھیک سے نہیں سن رہے تھے، اور اس کی جگہ کاغذ کے ٹکڑے پر لکھے گئے تبصرے پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے رِہا کیے گئے یرغمالوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے اہل خانہ کو بھی پریشان کر دیا جو اب بھی قید میں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے ان سے کہا کہ سبھی یرغمالوں کو گھر واپس لانے کا امکان بہت کم ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading