اردو ہی ذریعۂ تعلیم کیوں ؟

فصیح اللہ نقیبؔ،اکولہ

Mob. : 9075543241

اردو فرقہ پرستی کو فروغ دیتی ہے۔اردو غیر ملکی زبان ہے۔اردو نے پاکستان بنوایا۔اردو پاکستان کی زبان ہے۔اردو ہندی کی مخالفت کرتی ہے۔اردو ہمارے غلامی کے دور کی یادگار ہے۔اردو زندہ رہنے والی زبان نہیں ہے۔اردو اتنی دقیق زبان ہے کہ اس میں لکھنا بولنا سیکھنے کے لیے فارسی اور عربی کا سیکھنا ضروری ہے۔اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔یہ اور اسی قسم کی بیشتر زہریلی باتیں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اکثر کانوں میں انڈیلی جاتی رہی ہیں۔

یہ دور پروپیگنڈہ چاہتا ہے تشہیر کے وسائل بہت وسیع ہیں اور ان لوگوں کے ہاتھ میں ہیں جو اس قسم کی باتوں پر اصرار کرتے ہیں غلط بات بڑے شد ّومد کے ساتھ باربار بولی جائے تو صحیح لگنے لگتی ہے۔کسی کا قول ہے جھوٹ کو اتنی قوّت سے اور اس اعتماد کے ساتھ بولو کہ وہ سچ دکھائی دینے لگے۔لہٰذا جھوٹ جب سچ لگنے لگا تو وہ لوگ بھی شبہ میں پڑ گئے جو یہ جانتے ہیں کہ یہ نَو ساختہ سچ دراصل جھوٹ ہے پھر کیا ؟؎

بہت مضبوط سے مضبوط لوہا ٹوٹ جاتا ہے

کئی جھوٹے اکٹھّے ہوں تو سچّا ٹوٹ جاتا ہے

نتیجتاً آج محبّانِ اردو بھی بات وہیں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے دشمنانِ اردو چاہتے ہیں۔یعنی اردو ذریعۂ تعلیم سے بچّوں کو پڑھا کر کیا حاصل؟ان کی روزی روٹی کا مسئلہ پیچیدہ ہوجائے گا وہ قومی دھارے سے الگ ہوجائیں گے یا یہ کہ اردو ذریعہ تعلیم سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اعلیٰ تعلیم میں چل نہیں پاتے وغیرہ وغیرہم۔

بٹوارے کا عمل ہندوستان میں دراصل آزادی سے قبل شروع ہُوا۔جب یہ بات کہی جاتی ہے کہ اردو مسلمان حکمرانوں کی درباری زبان رہی اسے مسلمانوں کی سرپرستی حاصل رہی ہے اور ہندی کو دیدہ و دانستہ دبانے اور مٹانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔یہ جھوٹ اس اعتماد کے ساتھ بولا جاتا رہا ہے کہ ہم بھی مدافعت اور معذرت کا موقف اختیار کرنے لگے ہیں۔نہیں سوچتے کہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ثانی کے دور تک درباری زبان فارسی تھی۱۸۵۷؁ء کی ناکام جد و جہدِ آزادی کے بعد فارسی کو بے دخل کرنے کے لیےانگریزوں نے عارضی طور پر اردو کو سرکاری زبان بنایا لیکن چند روز بعد ہی انھوں نے اپنی زبان کو سرکاری زبان بنادیا۔اگر وہ سر پرستی نہ کرتے تو شاید اسے دیگر ہم وطنوں کو نفرت کا سامنا بھی نہ کرنا پڑتاْبرطانوی سامراجی سرکار نے زبان کو مذہب کے ساتھ وابستہ کیا اور ہندوستان کی سالم اوریک جہت شخصیت کے مذہب اور زبان کی بنیاد پر حصّے بخرے ہونے کا عمل شروع ہوا۔قومی تحریک نے سارے پیچ و خم کے باوجود اس کی یکجہتی شخصیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔اس کی سب سے بڑی مثال ڈاکٹر راجندرپرشاد اور مولوی عبدالحق کے مابین ہونے والا وہ معاہدہ ہے جو پٹنہ میں۱۹۳۸؁ء میں ہواتھا۔اس میں زبان کی وحدت کو برقرار رکھتے ہوئے فارسی اور دیوناگری رسم الخط بیک وقت قبول کیے گئے تھے۔انجمن ترقیٔ اردو اور پر چارنی سبھا کے علاوہ کل ہند کانگریس کمیٹی نے بھی اس معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔

ہندوستانی آئین نے دفعہ۳۵۰ کے تحت یہ ضمانت دی کہ ہر بچّے کی مادری زبان اس کی تعلیم کا ذریعہ ہوگی۔دفعہ ۳۵۰ کے تحت ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی قومی زبان میں کسی بھی دفتر یا محکمہ میں عرضی دے اور اسی زبان میں جواب پائے۔اس طرح ملک کے آئین نے ہر شہری کو اپنی زبان میں سوچنے،سمجھنے اور کہنے سُننے کا حق دیا۔لیکن آزادی کا سورج اردو کے چہرہ پر کالک مَلتا ہُوا طلوع ہوا مثلاً یو۔پی کے وزیرِ اعلیٰ نے یہ فرمان جاری کیاکہ اردو کی تعلیم اور اس کے استعمال کا سلسلہ فوراً ختم کیا جائے۔یوں جب اردو کوذبح کرنے کا عمل شروع ہوا تو ملک میں تقسیمِ ہند کے شاخسانے کے طور پر فرقہ وارانہ فسادات کا طوفان بپا تھا۔عجیب خوف و ہراس کے عالم میں اردو والوں نے اردو کا کند چھری سے ذبح کیا جانا اپنی آنکھوں سے دیکھا۔جب حالات کسی طرح سنبھلے تو ۱۹۵۶؁ء میں صدر جمہوریۂ ہند ڈاکٹر راجندر پرشاد کو ایک یادداشت پیش کی گئی جس پر تقریباً گیارہ لاکھ محبّانِ اردو کے دستخط تھے۔اس میں گزارش کی گئی تھی کہ آئین کی دفعہ۳۴۷ کے تحت اردو کو یو۔پی اور بہار کی علاقائی زبان قرار دیا جائے۔اس عوامی تحریک کا سر اس طرح کاٹا گیا کہ تحریک کی سربراہی کرنے والوں کو نواز کر اسے بے قیادت کیا گیا۔محبّانِ اردو نے گاندھیائی طرز کی ستیہ گرہ کی۔حیات اللہ انصاری پر قاتلانہ حملہ ہوا۔پنڈت دیو نارائن پانڈے نے اردو کے لیے ہڑتال کرتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دی۔کامریڈ جے بہادر سنگھ ایم۔پی نےاردو تحریک کے لیے اپنی جان کی قربانی دی مگر یہ قربانیاں رائیگاں کیوں نہ سمجھی جائیں کہ اردو آج تک اپنے جائز اور قانونی حق سے محروم ہے۔

گاندھی جی نے جب یہ کہا تھا کہ اردو ہندی شیلی گنگا جمنا ہے تو وہ آزادی سے قبل کا زمانہ تھا۔جب ہندی کو ناگری لیپی میں قومی زبان بنایا گیا تو ہند کے وزیر اعظم نہرو تھے۔پرشوتم داس ٹنڈن،راجندر پرشاد،گووند ولبھ پنت،سمپورنانند آنند،کیلاش ناتھ کاٹجو وغیرہ صفِ اوّل کے قومی لیڈر تھے یہ سب اردو فارسی کے ماہر تھے۔سمپورنانند اچھے غزل گو شاعر تھے آنندؔتخلّص تھا۔ہر ایک نے ہندی کی پُرزور وکالت کی ۔اس پر نہ کسی کو اعتراض ہے نہ ہونا چاہیے مگر چوٹ وہاں لگتی ہے کہ جب ہندی کی حمایت کے ساتھ اردو کی جارحانہ مخالفت پرشوتم داس ٹنڈن اور سمپورنانند تک نے کی؎ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ جنگِ آزادی کے سورما اور بزرگ رہنما پنڈت سندر لال نے لکھنؤ میں منعقدہ ایک کل ہند اردو کنونشن میں یہ سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ ایک بار وہ انجمن ترقیٔ اردو کے ایک وفد کے ساتھ یو۔پی کے پہلے وزیر اعلیٰ گووند ولبھ پنت سے ملے تھے ۔وفد ان سے گفتگو کے بعد واپس جانے لگا تو پنت جی نے سندر لال کو روک کر علیحٰدہ گفتگو کی خواہش ظاہر کی۔پنڈت سندر لال بادلِ نخواستہ علیحٰدہ گفتگو کے لیے تیار ہوئے تو گووند ولبھ پنت نے پنڈت جی سے کہا’’پنڈت جی آپ کو اردو کی فکر کیوں ہے۔بلاوجہ آپ اردو اردو چلّاتے پھرتے ہیں۔یہ ان مسلمانوں کی زبان ہے جو کئی برسوں تک ہم پر حکمراں رہے ہیں ہم نے اردو کو ختم کروادیا ہے۔اب ذرا مزہ چکھ لینے دیجئے ان کو محکومی کا۔آپ چِنتا نہ کریں اور نہ ہی ان کی وکالت کریں‘‘ پنڈت سندرلال ان باتوں پر ہکّا بکّا رہ گئے کیونکہ یہ باتیں اس کانگریس پارٹی کے ایک لیڈر کے منھ سے نکل رہی تھیں جس نے عبدالحق،راجندر پرشاد معاہدہ پر دستخط کئے تھے۔جی ہاں قول اور فعل کا یہ تضاد اب تو ملک کا مقدّر بن چکا ہے اور شاید پسندیدہ فیشن بھی۔۱۹۵۶؁ء سے آج تک یو ۔پی،بہار اور دیگر ریاستوں میں سرکاری طور پر اس اعلان کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ جہاں محبّانِ اردو خواہش کریں گے وہاں کے اسکولوں میں بچّوں کو اردو پڑھنے کی ہر سہولت فراہم کی جائے گی مگر فی الواقع صورتِ حال یہ ہے کہ کہیں اساتذہ نہیں ملتے کہیں طلباء کی فراہمی ایک مسئلہ ہے۔یو۔پی میں ۱۹۶۷؁ء میں چودھری چرن سنگھ کے دورِ حکومت میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اردو میں سرکاری گزٹ شائع ہوا کرے گا۔کئی ماہ بعداردو گزٹ شائع ہوا تو سرِ ورق پر تحریر تھا کہ ’’یہ گزٹ مستند نہیں ہے‘‘کبھی اس کو وقت پر شائع نہیں کیا گیا۔ کئی کئی ماہ بعد شائع کیا جاتا تھا۔آہستہ آہستہ یہ کہہ کر اسے بند کردیا گیا کہ خریدار نہیں ملتے؎

اتنے منظّم منصوبوں کو کیسے دیں آفات کے نام
(ملک زادہ منظورؔ)

یہ ہیں چند تلخ تاریخی حقائق جن سے گزر کر ہمارا سیکولر ملک آج یہاں آ پہنچا کہ ہم لوگ بھی اپنی مادری زبان کے سلسلہ میںتذبذب میں پڑ گئے ہیں کہ یہ ہماری اگلی نسلوں کا ذریعۂ تعلیم کیوں ہو؟اس بھولپن پہ کون نہ مرجائے اے خدا! جو ہمیں یہ سمجھا رہا ہےکہ اردوذریعۂ تعلیم سے فراغت پاکر ہمارے بچّے روزی روٹی سے محروم رہیں گے۔ملازمتوں میں دقّت کا سامنا کریں گے۔جن لوگوں نے اردو سے نفرت کی وہ اس لیےکہ وہ مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں اور اردو کو مسلمانوں کی زبان کہتے ہیں تو کیا کسی اور زبان کو ذریعۂ تعلیم بناکر تعلیم حاصل کرنے کے بعد ان مسلمانوں کو ملازمتیں پلیٹ میں سجاکر پیش کی جائیں گی؟

کوئی بھی زبان اپنے ساتھ اپنا ادب،اپنی تہذیب، اپنا تمدّن، اپنی ثقافت لے کر چلتی ہے۔اردو کا بھی ایک تہذیبی ورثہ ہے۔اردو سے دور ہونا اپنے تہذیبی ورثہ سے دست بردار ہوجانے کے مترادف ہوگا۔دو ایک مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔میرے ایک دوست ہیں

ڈاکٹر انجم ریاض خان،پٹنہ کے رہنے والے،علیگیرین ہیں کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ہے۔کبھی میرے کلیگ رہے،پھر’’ووکھارڈ‘‘ کمپنی اورنگ آباد میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے وظیفہ یاب ہوئے۔ان کی ایک خوبی سے میں بہت متاثر ہوا کہ وہ شخص لیب میںصرف سائنٹسٹ ہوتا،عام زندگی میں معاملات کے رکھ رکھاؤ والا،نمازوں کا پابند صرف مسلمان۔جس نے بڑودہ کی لیبارٹری سے صرف اس لئے استعفٰے دے دیا تھا کہ مسجد دور پڑتی تھی۔جب میں نے ان کی اس خوبی کی تعریف کی تو انھوں نے بتایا کہ ایم۔ایس۔سی فائنل میں پہنچنے تک تو میں ایسا تھا کہ گویا میرا کھانسنا اور تھوکنا تک انگریزی میں تھا۔ایک بار یونیورسٹی کیمپس میں بنک سے رقم نکال کر جانے لگا تو کسی نے آواز دی۔دیکھا تو کسی افریقی ملک کا باشندہ تھا اس نے مجھ سے پوچھا،کیا آپ مسلم ہیں ؟ میں نے کہا’’آف کورس‘‘اس نے کہا

"By Chance”یا”By Choice”میں تھوڑا ہڑبڑایا اور جواب دیا”By Both”۔اس نے مسکراکر کہا۔’’جھوٹ کہتے ہو۔اگر تم”By Choice”بھی مسلمان ہوتے تو ظہر کی اذان سننے کے باوجودیوں بے نیازانہ انداز میں چلے نہ جاتے۔تب مجھے احساس ہوا کہ جب میں بنک کے کاؤنٹر پر تھا تو اذان ہورہی تھی۔میرے حواس پر بجلی سی گری۔کئی روز بے چینی کا عالم رہا۔جب تھوڑا اپنے آپ کو سنبھالا تو اپنے مذہب کی تعلیم کی طرف توجہ دی۔اردو سیکھی‘ نماز سیکھی اور تب سے آج تک یہ عمل جاری ہے۔اکثر نماز کے بعد اپنے اس محسن کے حق میں دعائیں کرتا ہوں۔بعد میں جب میں نے اپنی حالت پہ غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ چونکہ مجھے اپنے بچپن میں انگلش مشنری اسکول میں داخل کردیا گیا تھا۔والدین سے دور ہوسٹل میں رہااور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے ترکِ وطن کیا۔شاید اردو کے ماحول سے دور ہونے کے سبب میں اپنے مذہب اور مذہبی فریضوں کی اہمیت کو نہیں سمجھتا تھا۔

ایک اور صاحب ہیں۔بفضلِ خدا مسلمان ہیں۔مراٹھی اخبار سے منسلک ہیں۔گھر میں سب کی تعلیم اُسی ماحول میں ہوئی ہے۔گھر کا ماحول بھی وہی ہے۔اُن کا حال یہ ہے کہ کبھی کسی کو سلام نہیں کرتے۔سلام کیجیے تو جواب تو دے دیتے ہیں لیکن اکثر بول پڑتے ہیںکیا یار میاں بھائیوں کی طرح سلامالیکم سلامالیکم کرتے رہتے ہو۔حج کے سلسلہ میں ان کا کہنا ہے کہ وہاں جانے کی ضرورت کیا ہے جب مُلّا لوگ ک����تے ہیں کہ خدا ہر جگہ موجود ہے۔اور جیسا کہ میاں بھائی لوگ کہتے ہیں کہ خدا ستّر ماؤں سے زیادہ مہربان ہے تو پھرروزے رکھواکر بھوکا کیوں مارے گا۔یہ سب کٹھ مُلّاؤں کا چکّر ہے۔اب اسے اس ماحول کی دین کہا جائے جو ان کے گھر کا ہے یا پھرکیا کہا جائے !پولس ڈپارٹمنٹ میں ریکروٹمنٹ تھا۔ایک مسلم امیدوار سے آفیسر نے پوچھا’’قرآن کس نے لکھا ہے ؟‘‘ اس کا جواب تھا’’حضرت محمدﷺ نے‘‘۔ خیر سے یہ صاحب بھی اردو ذریعۂ تعلیم سے فارغ نہ تھے۔’’کون بنے گا کروڑ پتی‘‘ کے ایک ایپی سوڈ میں ایک مسلم شخص آخری سوال تک پہنچ گیا۔ پچاس لاکھ جیت چکا تھا آخری سوال چھوڑ کر جانے کا Option موجود تھا مگر نہیں گیا۔آخری سوال کیا گیا؟’’اسلام میں ’’ہجرت‘‘ کسے کہتے ہیں ؟‘‘ وہ صاحب اس سوال کا جواب نہ دے سکے کیونکہ ان کی عصری تعلیم نے انھیں حضور اقدسؐ کے سلسلے میں بنیادی باتوں سے بھی محروم رکھا تھا۔

یہ مثالیں اس لئے دی ہیں کہ زبان اپنی تہذیب،اپنا تمدّن اور اپنی ثقافت ساتھ لے کر چلتی ہے۔رہ گئی یہ بات کہ اردو ذریعۂ تعلیم سے فراغت پانے والے طلباء اعلیٰ تعلیم میں چل نہیں پاتے تو چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔

اکولہ بہت بڑا شہر نہیں ہے۔ودربھ میں ناگپور اور امراؤتی کے بعد تیسرے نمبر پر آتا ہے۔یہاں ڈاکٹر خواجہ انضار احمد اور ڈاکٹر صادق احمد خان نے M.D.کیا۔ڈاکٹر محمد عثمان کاسمانی،ڈاکٹر افتخاراللہ خان،ڈاکٹرزبیر امین،ڈاکٹر محمد محسن،ڈاکٹر منظر عالم تمام نے M.B.B.S.کیا۔ڈاکٹر عمران علی خانM.S.ہیں۔ڈاکٹرنیازاحمد سائنٹسٹ ہیںDNA)ٹسٹنگ ایکسپرٹ)خواجہ غلام السیّدین ربّانی ڈائریکٹر محکمۂ آثارِ قدیمہ۔محمد برہان عرب ایکزیکیوٹیو انجینئر پوسٹ اینڈ ٹیلیگراف اور ڈائریکٹر اکولہ ٹی۔وی ریلے سینٹر۔جاوید احمد انجینئر محکمۂ آبپاشی۔ابرار احمد انجینئر برلا کمپنی۔ڈاکٹر سیّد ذاکر علی سب رجسٹرار زرعی یونیورسٹی۔ڈاکٹر محمد طیّب کپاس کے بیجوں اور اقسام اور پیداوار پر اتھارٹی مانے جاتے تھے (حکومتِ ہند کی جانب سے کئی بین الاقوامی زرعی سیمیناروں اور ورکشاپ میں ایکسپرٹ کی حیثیت سے نمائندگی کی)۔مردان علی خان نشاطؔ اور منظور ندیمؔ سول جج۔موثق اللہ خان ٹاؤن پلاننگ آفیسر۔صادق اللہ خاں ڈپٹی ڈائریکٹر انڈین ائیر فورس۔ثانوی درجات تک یا اعلیٰ ثانوی درجات تک ان تمام حضرات کا ذریعۂ تعلیم اردو رہی ہے۔(جب جسٹس ہدایت اللہ کسی تقریب کے سلسلے میں اکولہ آئے تھے۔پروگرام کے اختتام پر انھوں نےاس اسکول کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی جہاں انھوں نے درجۂ ہفتم تک تعلیم پائی تھی۔تعطیلات تھیں تاہم انتظام کیا گیا کئی افراد کے ساتھ سابق صدرِ جمہوریۂ ہند اس اسکول میں گئے اپنے اساتذہ،اپنے ساتھیوں، اسکول کی تعلیم کا تذکرہ اس انداز سے کرتے رہے کہ بچّوں کی سی خوشی ان کے چہرے سے اور بھولپن باتوں سے ٹپکتا تھا وہ اسکول اردو میڈیم کا ہے)یہاں قصداً ان صدہا لکچررز،پروفیسرز اور ڈاکٹرز کے تذکرہ کو چھوڑدیا گیا جو درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ ہیں۔مسلم وکلاء کا تذکرہ بھی شامل نہیں ہے جن کا ذریعۂ تعلیم اردو ہی تھا۔ان لوگوں کی اعلیٰ تعلیم میں تو اردو کہیں رکاوٹ نہیں بنی۔پھر ہمارے خدشات کی حیثیت اوہام سے زیادہ اور کیا رہ جاتی ہے ؟

دراصل پچھلی سات دہائیوں سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اردو کو روزی کے حصول کے معاملہ سے بڑی خوبصورتی کے ساتھ الگ کیا گیا اور پھر اسے دیدہ و دانستہ اقلیت کی زبان کہا جانے لگا۔اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے تو ہم بوکھلاکیوں جاتے ہیں۔مثالیں دینے کیوں بیٹھتے ہیں کہ نہیں صاحب یہ تو پریم چند، چکبست، اور فراق وغیرہ کی زبان بھی ہے۔آج اگرکوئی یہ اعتراض کرے کہ بتائیے فی زمانہ کتنے ’’فراقوں ‘‘ اور’’ چکبستوں‘‘ کی اولادیں اردو سے وابستہ ہیں تو اس کا آسان سا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہی حال بیشتر ’’ابوالکلاموں‘‘ اور ’’اقبالوں‘‘ کی اولادوں کا بھی ہے۔اور تو اور خود اردو کا نمک کھانے والے اکثر اساتذہ اپنی اولاد کی تعلیم کے سلسلہ میں اردو ذریعۂ تعلیم سے روگردانی کے مرتکب ہورہے ہیں۔چند ایک مثالیں اس ابن الوقتی سے مستثنیٰ ہیں۔ مثلاً جب اردو کے رسم الخط کی تبدیلی کی بات چلی تھی تو کرشن چندر نے شدید مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ یہ لوگ تو ایسےہیں کہ کسی مالدار عورت کو دیکھیں گے تو اپنی غریب ماں کو چھوڑ کر اسے ماں بنالیں گے۔مجھے تو اسی ماں نے جنم دیا۔کرشن چندر کو کرشن چندر بنایا۔اب کیا میں اس لیے اسے چھوڑ دوں کہ میری ماں غریب ہے۔پھر اردو سے محبّت کرنے کا یہ مطلب کہاں نکلتا ہے کہ ہم دیگر زبانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ہندی ہماری قومی زبان ہے۔سر آنکھوں پر۔دیگر علاقائی زبانیں بھی ہم سیکھیں تاکہ دیگر ہم وطنوں کے ساتھ ہم آہنگی کا ماحول پیدا ہو۔

ہم مہاراشٹر والے اپنی ریاستی حکومت کے ممنون اور متشکّر ہیں کہ اس نے بغیر کسی تشہیر کے اردو ثانوی اور اعلیٰ ثانوی مدارس کا ایک جال سا مہاراشٹر میںبچھادیا اور ہر سال اس میں اضافہ کررہی ہے۔اکولہ جیسے چھوٹے شہر میں اٹھارہ ثانوی مدارس ہیں جہاں ذریعۂ تعلیم اردو ہے۔تین ضلع پریشد چلاتی ہے۔پندرہ نجی اداروں کے زیرِ نگرانی ہیں۔تین مدارس صرف طالبات کے لیے ہیں۔چھ کو اعلیٰ ثانوی مدرسوں کا درجہ دیا گیا ہے جہاں سائنس،آرٹس اور کامرس کی فیکلٹیز ہیں۔طالبات کے لیے ایک اردو ڈی ایڈ کالج ہے۔ابتدائی مدارس(تحتانی) ضلع پریشد کے زیرِ نگرانی چلتے ہیں،جن کی تعداد چودہ ہے۔اب چند نجی اداروں نے بھی تحتانوی سطح سے اردو ذریعۂ تعلیم کا نظم کیا ہے۔ان مدارس سے فارغ ہوکر اعلیٰ تعلیم کے داخلے میں کسی بھی ڈگری کالج میں کہیں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔شیواجی کالج آف آرٹس،سائنس اینڈ کامرس اکولہ کے سابق پرنسپل ڈاکٹر وِٹھّل واگھ کے بقول ان کے کالج میں گریجویشن پوسٹ گریجویشن اور اسپیشلائینزیشن(ڈاکٹریٹ) تما م جگہوں پر فرنٹ لائن اردو والے طلباء اور طالبات کی ہوتی ہے۔کیا ہمارے نونہالوں کا یہ کارنامہ ہمارے لیے باعثِ نازوانبساط نہیں؟

اب یہ اساتذۂ کرام کی ذمّہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے ادارہ کے معیارِ تعلیم کو بلند اور مستحکم کرنے کی طرف توجّہ دیں۔ادارہ ٹیم ورک کا نام ہے۔طلباء و طالبات کی کردار سازی اور شخصیت سازی میں اساتذہ کا کردار سب سے اہم مقام رکھتا ہے۔پیشۂ درس و تدریس ایک مقدّس فریضہ ہے۔ملّت کے نونہال بطورِ امانت ہماری نگہداشت میں دئیے جاتے ہیں۔ان کی شخصیت کو نکھارنا،سنوارنا اور کردار سازی تعلیم میں ہمہ جہت ترقی کے لیے مسلسل کوشاں رہنا ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔معیارِ تعلیم و تربیت ہی پر اداروں کی بقا کا انحصار ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری تن آسانی،اپنی ذمّہ داری سے روگردانی خدا نخواستہ اردو پڑھنے والے طلباء و طالبات کی عدم دستیابی کی وجہ نہ بن جائے ۔ ہمیں ہر دَم یہ یاد رہنا چاہیے کہ سبب چاہے کوئی بھی ہو مسبب الاسباب تو ایک ہی ہے۔ہمارا رازق تو اللہ ہی ہے جس نے اس پیشہ کو ہماری روزی روٹی کا ذریعۂ بنایا تو ظاہر ہے کہ وہ ان نونہالوں کے تعلق سے ہم سے حساب بھی لے گا کہ ہم نے اپنی روزی کو رزقِ حلال بنانے کے لیے کیا جتن کئے۔

یاد رکھیے ! اردو کو اپنائیں گے تو ہم اس پر کوئی احسان نہیں کریں گے اردو کو جتنا کچھ اردو والوں نے دیا ہےاردو نے ہمیشہ انھیں سود سمیت اس سے زیادہ لوٹایا ہے۔بھلا ہو دینی مدارس کا جو بغیر حکومت کی مالی امداد کے چلتے ہیں اور اردو کو کلیجہ سے لگائے ہوئے ہیں۔پورے ملک میں جابجا پھیلے ہوئے ہیں ۔اردو کی زندگی کی بقا کے لیے وہی کافی ہیں۔

روزی کی لالچ میں دوسری زبانوں میں تعلیم کے حصول کا جذبہ کہیں ہماری حالت اس عاشق کی طرح نہ کردے جسے اس کی محبوبہ نے وصل کی شرط کے طور پر ماں کا دل لانے کے لیے کہا تھا۔یہ بدبخت،دل لے کے چلا،ٹھوکر لگی،گر پڑا۔دل دور گرا مگر اس سے آواز آئی۔’’میرے بیٹے ! کہیں تجھے چوٹ تو نہیں آئی ؟ یہ پھر اُسے اٹھا کر محبوبہ کے قدموں میں رکھنے گیا تو اس نے ٹھوکر ماری یہ کہہ کر کہ جب تو اپنی ماں کا نہ ہُوا تو میرا کیونکر ہووے گا۔اگر ہم اپنے تہذیبی،ثقافتی اور ادبی روایتی ورثہ کی بقا چاہتے ہیں تو کم از کم ہمیں تحتانوی اور ثانوی درجات تک بچّوں کا ذریعۂ تعلیم اردو رکھنا ہوگا کیونکہ اردو ادب اب ہماری شناخت بھی ہے اور تشخّص بھی ورنہ بقول صدؔیق مجیبی؎

وہ خود کشی کی صلیبوں پہ جھول جاتی ہے

جو قوم اپنی روایت کو بھول جاتی ہے

نوٹ : اس مضمون کی تیّاری کے سلسلے میں کتاب نما دہلی کے مندرجہ ذیل شماروں سے مدد لی گئی ہے۔

(۱) مئی ۲۰۹۰؁ء (۲) اکتوبر۲۰۹۰؁ء (۳) جنوری ۲۰۹۱؁ء (۴) دسمبر۲۰۹۲؁ء (۵) اپریل ۲۰۹۳؁ء

فصیح اللہ نقیبؔ،اکولہ

Mob. : 9075543241

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading