محمد مجید اللہ خان‘ خلوت‘ حیدرآباد( تلنگانہ)۔واٹس اَپ نمبر: 8008464476
بعض مشاہدات اور واقعات دل و دماغ پر نقش ہوجاتے ہیں۔ میں آجکل دیکھ رہا ہوں اور شوشل میڈیا پر پڑھ رہا ہوں کہ اذانیں جن سے دل و دماغ کو راحت ملتی ہے، نماز کی تیاریاں کی جاتی ہےں، مسجدوں کا رخ کیا جاتا ہے، کاموں کی تقسیم کی جاتی ہے، ادب و احترام سے کوئی چوکنا ہوجاتا ہے تو کوئی خاموش تو کوئی بد گوئی سے باز آجاتا ہے، کہیں سر ڈ ھپے جاتے ہیں، اتنا ہی نہیں ہر چیز خوش ہو جاتی ہےکہ یہ ہمارے رب کی پکار ہے اور حاضری کا وقت ہے ——-جی ہاں ! آج ےہی اذانیں اچھی نہیں لگ رہی ہےں۔ اذان کی مخالفت ہورہی ہے۔برادران وطن کے نفرت بھرے تاثرات اور بیانات سامنے آرہے ہیں، بلکہ یہ مطالبات آرہے ہیں کہ اس اذان کی آواز پر پابندی لگادی جاے۔
ان شدید بیانات کے پےچھے میرا احساس ہے کہ ہم برادرن وطن کواذان کا صحےح تعارف نہیں کراسکے ۔ بعض کو آج بھی یہ کہتے سنا جا رہا ہے کہ یہ اکبر بادشاہ کی یاد دلواتے ہےں ۔(نعوذ با للہ )ایک طرف برادران وطن کی نا واقفیت اور دوسری جانب ہماری کوتاہی کی وجہ سے برادران وطن کا صبر و تحمل ‘ مخالفت اور نفرت میں بدل گئے ہےں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مساجد سے بلند ہونے والی اذانیں دلوں کو سکون پہنچنانے والی نہ رہےں بلکہ کرختگی کا پہلو لئے ہوئے رہےںاور انداز نہاےت ہی کرخت اور قابل اصلاح ہے۔
چونکہ اذان اےک مکمل دعوت ہے ۔ ےہ جس قدر خوشگوار ہوگی اتنی ہی قبول عام کی تاثےر بھی بڑھے گی۔ ےہی نہےں بلکہ مخالفت کرنے والے اِسے پسند کرنے اور اختےار کرنے والے بن جائےنگے ۔آئےے ہم سب ملکر اس اہم موضوع کے تمام پہلوں پر غور و فکر کر تے ہوئے سنجےدگی سے اس کا جائزہ لےنے کی کوشش کرےں۔
حقیقت ےہ ہے کہ جس طرح قرآن کے الفاظ میں جادوئی تاثیر ہے۔ اسی طرح اذان کے الفاظ بھی ایک جادوئی اثر رکھتے ہیں۔ اس کے ایک ایک لفظ میں معنویت ہے۔ قرآن جب بہتر اور پیارے انداز میں پڑھا جاتا ہے تو اس کا اثر اتنا گہرا ہوتا ہے۔ اسی طرح جتنی خوش الہان اذان ہوگی اس کی طرف عام و خاص لوگ متوجہ ہونگے اور امکان ہے کہ اس کے ذرےعہ اللہ تعالیٰ ہدایت کی راہیں کھول دیں۔نماز دین اسلام کی جان بھی ہے اور شان بھی۔ اسلام کو پہنچانے کا پہلا زےنہ ہماری اذانےں ہےںجوحقےقی آن بان سے خالی ہوکر ر ہ گئی ہےں، اس وجہ سے لوگ اس کی طرف متوجہ ہونے کے بجائے اس سے نفرت اور شدےد مخالفانہ انداز اپنائے ہوئے ہےں۔ ہم ذےل مےںملت کے دانشواران ‘ دعوت کے ماہرےن اور مشائخےن عظام اور اہل علم حضرات کی خدمت مےں چند تجاوےز پےش کرنے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے ہےں کہ اس جذبہ مخلصانہ پر ہمدردانہ غور و فکر کےا جائے‘ توقع ہے کہ برادران وطن مےں اسلام اور اذان کے تعلق سے مخالفت کی شدت مےں کمی واقع ہوگی اور ےہی ہمارا مقصد ہے ۔
تجاوےزو مشورے:
۱) اذان دینے والے (موذن حضرات) کو لازماً ایک مکمل تربےت سے گزارا جائے ‘ تاکہ الفاظ کی ادائےگی صحےح ہو ،انداز معےاری ہو، تجوید کی رعایت کے ساتھ آواز خوش الہان ہو۔ (جےسے : حرمےن شرےف مےں اذانےں ہوتی ہےں) کرخت انداز اذان کی مٹھاس اور اہمےت کو ختم کر دےتی ہے جو برادران وطن کے دلوں مےں بےزارگی کی وجہہ بنتی جارہی ہے ۔
۲) تعلےمی لےاقت اور خوش الہانی کی جانچ کے بعد ہی موذن کا تقرر کےا جائے ‘ اور جن مےں دین اسلام سے گہری وابستگی اور دعوت کا عز م و حوصلہ بدرجہ اتم ہو۔ےہ اُسی وقت ممکن ہے جب موذن داعی بھی ہو۔
۳)اذان سے متاثر ہو کر آنے والے حضرات کو موذن اذان کے الفاظ اور اسلا م کی دعوت سے روشناس کرانے کی صلاحےت رکھتاہو۔
۴)ابتداءمیں اُن مساجد کا انتخاب کیا جائے جو دعوتی اعتبار سے زرخیز علاقہ میں واقع ہوں، جیسے، ملی جلی بستیاں، تجارتی مراکزےا آفےسس کے آس پاس کی مساجد اور تار ےخی مساجد وغیرہ۔
۵)ابتداءمےں چند مساجد کا انتخاب کیا جائے، جہاں کثےر تعداد مےں لوگوں کی آمد و رفت ہو۔کہےں فجر‘ ظہر وعصر اور کہےں مغرب و عشاء۔
۶)شہر کی مختلف مساجد مےں کہےں نماز فجر کے وقت تر بےت ےافتہ موذن سے اذان دلوائی جائے ۔ کسی تجارتی مراکز کی مساجد مےں ظہر اور عصر کی اذان کانظم ترتےب دےا جائے اِسی طرح اِن با صلاحےت موذنےن سے مختلف مقاما ت پر ان کی خدمات سے استفادہ کےا جاسکتا ہے۔
۷)تربےت ےافتہ موذن حضرات کا مشاہرہ معےاری ہوکہ با صلاحےت نوجوان اس عہدہ کے متمنی رہےں اور اِسے حاصل کرنے کے لئے وہ صفات پروان چڑھائےں جو اُوپر بےان کی جا چکی ہے ۔
ذیل میں چند احادیث کا تذکرہ کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے جس سے اذان کی اہمیت اور فضےلت کے ساتھ موذن کا مقام ‘درجہ و مرتبہ کا اندازہ ہو سکے گا۔
اذان کی ابتداءاور فضیلت : اذان اور موذن کی فضیلت میں متعدد احادیث آئی ہے لےکن ہم صرف دو کا ذکر کرتے ہےں۔
1۔ حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے کہ نبی کرےم صلی اللہ علےہ و سلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان اور پہلی صف کا کیا ثواب ہے تو پھروہ قرعہ ڈالنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ پاتے۔اور اگر ا نہےںمعلوم ہوتا کہ ظہر کی نماز کا ثواب کےا ہے تو اس کی طرف آنے مےں سبقت کرتے اور انہےں معلوم ہو تا کہ عشاءاور صبح کی نماز مےں کےا ثواب ہے اور پھر انہےں رےنگ کر بھی آنا پڑتا تو وہ ضرور آتے۔(بخاری)
2۔حضرت ابودرداؓ سے روایت ہے کہ نبی کرےم صلی اللہ علےہ و سلم نے فرمایا ” جو تین آدمی اذان کہہ کر جماعت سے نماز نہیں پڑھتے ان پرشیطان غالب آچکا ہوتا ہے۔“ (مسند امام احمد)
حضرت عبداللہ بن زیدؓسے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علےہ و سلم نے فرماےا کہ پہلے پہل نماز کے لئے لوگوں کو جمع کرنے کا سنکھ کے ذرےعہ حکم دےا گےا اےک رات جب میں سورہا تھا۔ خواب میں دےکھا کہ ایک آدمی آکرمیرے گرد گھومنے لگا۔ اس کے ہاتھ میں ایک سنکھ تھا۔ میں نے اس سے پوچھا ”اے اللہ کے بندے! کیا تم یہ سنکھ بےچو گے؟ اُس نے پوچھا: تم اِسے کیا کروگے؟ میں نے کہاہم اس سے لوگوں کو نماز کی طرف بلائےنگے۔ کیا میں تمہیں اس سے بہتر طریقہ نہ بتاں ؟ میں نے کہا ضرور بتا۔ کہنے لگا ےہ الفاظ ہےں ” اذان کے اِن کلمات کو جو آجکل رائج ہیں۔وہ شخض ذرا پےچھے ہٹا کہنے لگا اقامت۔“
جب صبح ہوئی تو میں نے آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر اپنا خواب بیان کیا۔ آپﷺ نے فرمایا: ” ان شاءاللہ یہ سچا خواب ہے۔ بلال کے ساتھ کھڑے ہوجا¶ اور جو الفاظ تم نے خواب میں سنے ہیں انھیں کہتے رہوتا کہ وہ اذان دیں، اس لیے کہ ا ن کی آواز تم سے بلند ہے۔” میں حضرت بلالؓ کے ساتھ کھڑا ہوا اور انھیں کہتا رہا اور وہ اذان دیتے رہے۔ حضرت عمر ؓنے جب یہ اذان سنی تو وہ اپنے گھر میں تھے۔ اپنی چادر جسم سے گھسےٹتے ہوئے آے اور فرمانے لگے ” ائے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں نے بھی ایسا ہی خواب دیکھا ہے۔ ” اس پر نبی ﷺنے فرمایا فَللّٰہِ الحَم±د ۔ (مسند امام احمد)
اذان کے کلمات میں اللہ کی کبریائی ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے اوراللہ کا تقابل کسی سے نہیں کیا جاسکتا! کیونکہ کائنات کی ہر چیز اس کی بنائی ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ قوت، عزت، شان و شوکت اور ہر اچھی صفت میں سب سے بڑا ہے۔ اذان درحقےقت اےک اعلان ہے اور ےاددہانی ہے۔ یہ کلمات فلاح کی طرف بلارہے ہےں‘راستہ بتا رہے ہیں۔گویا اس بات کا اعلان ہے کہ اس کی بڑائی کو مانتے ہوے آجاﺅ۔ اگر نہ مانو تو بھی اللہ اپنی جگہ بڑا ہے۔ تمہارے آنے یا نہ آنے سے اس کی بڑائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔نہ آکر تم اپنا ہی نقصان کر بیٹھو گے، جبکہ اس کی پکار پر لبیک کہنے سے تم ہی دنیا اور آخرت کی فلاح پاجاﺅگے۔