اجودھیا مسجد:سنی وقف بورڈ کامسلم پرسنل لاء کے موقف کی تردید

لکھنؤ:24دسمبر(یواین آئی)بابری مسجد کے ضمن میں حکومت کے ذریعہ اجودھیا میں فراہم کی گئی دوسری جگہ پر مسجد تعمیر کو شرعا غلط و ناجائز قرار دئیے جانے کے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کی تردید کرتے ہوئے یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ نے کہا کہ پرسنل لاء ایسا عوام الناس کے درمیان شکوک پیدا کرنے کی غرض سے کررہا ہے۔


انڈین اسلامک کلچر فاونڈیشن کے چیف ٹرسٹی وبورڈ کے چئیرمین زفر فاروقی نے کہا کہ’وقف پراپرٹی کو ایکسچینز کرنے یا بابری مسجد کے انہدامی کا سودا کرنے کے الزامات بے بنیاد ہیں یا پھر اس ضمن میں دئیے جانے والے بیانات عدالت عظمی کے فیصلے کو پڑھے بغیر جاری کئے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے 9نومبر 2019 کے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ’حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی زمین پر یوپی سنی وقف بورد مسجد و دیگر تعمیرات کے سلسلے میں تمام اقدامات کرنے میں خودمختار ہوگا۔ایسے میں یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کو یوپی حکومت کی جانب سے اجودھیا کے دھنی پور علاقے میں 5ایکڑ زمین فراہم کی گئی ہے اسے بورڈ نے قبول کیا۔

بورڈ نے اس زمین پر مسجد کے ساتھ دیگر متعلقہ سہولیات کی تعمیرات کے لئے انڈواسلامک کلچر فاونڈیشن کے نام سے ٹرسٹ کو تشکیل دیا ہے جس میں یو پی سنی سنٹرل وقف بورڈ کے سی ای او کو فاونڈنگ ٹرسٹی بنایا گیا ہے۔مسٹر فاروقی نے کہا کہ مذکورہ زمین وقف زمین نہیں ہے اور یہ ٹرسٹ کے نام سے رجسٹرڈ ہےاور اس نے 5ایکڑ زمین کا اسٹامپ ڈیوٹی کی ادائیگی کی ہےجو اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ ناتو بابری مسجد کے ضمن میں کسی قسم کا سودا کیا گیا ہے اور نہ ہی مسجد کے انہدام کے عوض میں اس کا تبادلہ کیا گیا ہے۔


نئی مسجد کی تعمیر کے لئے سلسلے میں تمام کاروائی کے بغیر کسی تنازع کے خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دیے جانے کا دعوی کرتے ہوئے انڈین اسلامک کلچر فاونڈیشن کے چیف ٹرسٹی زفر فاروقی نے کہا کہ’یہ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ کسی بھی شخص کی شریعت پر کوئی اجارہ داری نہیں ہے یا کوئی بھی شخص ہندوستانی مسلمانوں کا واحد نمائندہ ہونے کا دعوی کرسکتا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ یو پی سنی سنٹرل وقف بورڈ کا یہ بیان آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن وسینئر وکیل ظفر یاب جیلانی کے اس بیان کے جواب میں ہے جس میں مسٹر جیلانی نے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی زمین پر تعمیر کی جانے والی مسجد کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس زمین پر بنائی جانے والی تمام تعمیرات کو شرعا ناجائز قرار دیا تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading