کامران غنی صبا، پٹنہ
گاندھی جینتی پورے ملک میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی اور منائی بھی کیوں نہ جائے. جس شخص نے ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ کے لئے اپنی زندگی کی آخری سانس تک نذر کر دی وہ یقیناً عقیدت و احترام کا مستحق ہے لیکن کسی سے عقیدت و احترام کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم اپنی شرعی حدود سے تجاوز کر جائیں. اکثر مختلف جینتیوں کے موقع پر سرکاری دفاتر خاص طور سے اسکولوں میں معزز شخصیات کی تصویر کی آرتی اتاری جاتی ہے. ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں. اگر کوئی اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق رسوم و قیود کا پابند ہے تو ہم کون ہوتے ہیں روکنے والے لیکن افسوس تو تب ہوتا ہے جب ہم خود اس رنگ میں رنگے ہوئے نظر آتے ہیں. پتہ نہیں ہم اپنے عمل سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں. میرا ذاتی تجربہ ہے کہ ہمارے غیر مسلم بھائی کبھی ہم سے جبراً اپنی مذہبی رسومات میں شامل ہونے کے لیے نہیں کہتے. بلکہ اکثر اوقات تو وہ کلمہ گو بھائیوں سے زیادہ ہمارا تعاون کرتے ہیں. میں جب جے این یو میں تھا تو ہاسٹل میں میرا روم میٹ بیگوسرائے کا ایک غیر مسلم لڑکا تھا. ہمارے روم میں جب زیادہ لڑکے جمع ہو جاتے تھے تو وہ نماز کے لیے اپنا بیڈ بھی خالی کر دیا کرتا تھا اور خود روم سے باہر چلا جایا کرتا تھا. وہ خود بہت مذہبی تھا. اکثر پوجا پاٹ کے موقعوں سے پرسادی وغیرہ لے کر آتا تھا. ایک بار اسے احساس ہو گیا کہ میں پرسادی نہیں کھاتا ہوں. پوچھنے لگا کہ میرے پرسادی نہیں کھانے کی کیا وجہ ہے. میں نے سلیقے سے سمجھا دیا کہ ہم لوگ اللہ کے سوا کسی کے نام پر چڑھایا ہوا نہیں کھا سکتے. تب سے اس کا معمول تھا مٹھائی لاتے ہی پہلے مجھے دے دیتا اور کہتا کہ بھائی بس ابھی بازار سے لے کر آیا ہی ہوں. آپ کے لیے الگ سے نکال دی ہے. اب تو آپ کھا سکتے ہیں نا؟
ٹرین میں اکثر ایسا اتفاق ہوا ہے کہ نماز پڑھنے کے لئے میں نے کسی مسافر سے تھوڑی دیر کے لیے اوپر والی برتھ خالی کرنے کی گزارش کی. کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی نے برتھ دینے سے انکار کیا ہو.
ملازمت میں اکثر ایسے مواقع آتے رہتے ہیں کہ جب شرعی حدود کی خلاف ورزی کا خوف لاحق ہو جاتا ہے لیکن الحمد للہ آج تک کبھی کسی نے مجبور کر کے کوئی کام نہیں کرایا.
میرا ذاتی خیال ہے کہ اس طرح کے مواقع پر ہمیں شائستگی کے ساتھ اپنا مؤقف ضرور پیش کرنا چاہیے. عقیدت و احترام تو ہم اپنے والدین کا بھی کرتے ہیں لیکن کیا کوئی مسلمان اپنے مرحوم والدین کی تصویر پر پھول مالا چڑھاتا ہے؟ کیا پھول مالا نہیں چڑھانے کا مطلب عقیدت میں کمی ہے؟
بحیثیت مسلمان ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے عقیدئہ توحید کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ موقع محل دیکھ کر پیغام حق دوسروں تک بھی پہنچائیں. کیا پتہ ہماری ذرا سی کوشش کسی کی نجات کا ذریعہ بن جائے