اتحاد کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، یادو ووٹ ہمیں نہیں ملا، مایاوتی کا بیان

حال ہی میں اختتام پذیر ہوئے لوک سبھا انتخابات میں سب سے زیادہ کوئی چیز چرچہ میں تھی تو وہ تھا اترپردیش میں ایس پی-بی ایس پی اور آر ایل ڈی کا اتحاد۔ اس اتحاد کے تعلق سے یہ کہا جا رہا تھا کہ مرکز میں بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے میں اگر کوئی سب سے اہم کردار ادا کرے گا تو وہ یہی اتحاد کرے گا، لیکن جب نتیجہ آئے تو اس نے بی جے پی مخالف قووتوں کی کمر ہی توڑ دی۔ لوک سبھا میں جو اتحاد کو جھٹکا لگا تھا وہ تو الگ تھا لیکن اب جو بی ایس پی سپریموں نے جھٹکا دیا ہے اس نے اتحاد کے مستقبل پر ہی سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔

بی ایس پی جس نے گزشتہ دس سالوں میں کسی بھی ضمنی انتخابات میں شرکت نہیں کی ہے اس نے اس مرتبہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسمبلی کی 11 سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ بی ایس پی سپریموں مایاوتی نے آج دہلی میں اپنے گھر پر بلائے گئے اجلاس میں اپنے لوگوں سے کہا کہ وہ اپنی تیاری شروع کریں۔ لوک سبھا انتخابات میں ہوئی شکست کے بعد جائزہ کے لئے بلائے گئے اجلاس میں اتحاد اور انتخابات کو لے کر تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔

واضح رہے24 سال بعد بی ایس پی اور ایس پی میں اتحاد ہوا تھا اور اس اتحاد سے حزب اختلاف کو بڑی امیدیں تھیں لیکن نتائج ویسے نہیں آئے۔ مایاوتی نے آج کے اجلاس میں ایک بات ایسی کہہ دی جس کا سیاسی پیغام کافی بڑا ہے۔ انہوں نے اجلاس میں کہا کہ سماجوادی پارٹی سے سمجھوتہ کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کئی انتخابی حلقوں میں یادو ووٹ اتحٓاد کو نہیں ملا۔ انہوں نے کہا یہ بات اس سے ثابت ہوتی ہے کہ خود اکھیلیش یادو کی اہلیہ ڈمپل یادو بھی اپنا چناؤ نہیں جیت پائیں۔ مایاوتی یہیں نہیں رکیں انہوں نے کہا کہ کچھ حلقوں میں سماجوادی پارٹی کے کارکنان نے اتحاد کے خلاف کام کیا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو نتائج بہتر ہوتے۔

مایاوتی نے آج کے اجلاس میں دو-تین مرتبہ شیوپال یادو کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیو پال کی وجہ سے یادو ووٹوں کی تقسیم ہوئی، اکھیلیش اور ان کی پارٹی اس تقسیم کو روکنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے کہا کہ شیوپال یادو کئی حلقوں میں یادو ووٹوں کو بی جے پی کے حق میں تقسیم کرانے میں کامیاب ہوئے۔

بی ایس پی سپریموں نے اس موقع پر مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم سماج نے بی ایس پی کا پورا ساتھ دیا۔ مایاوتی نے اتر پردیش میں تنظیم کو چار حصوں میں بانٹ کر تین کی ذمہ داری مسلم رہنماؤں کو دے دی۔ یہ ذمہ داری منقاد علی، نوشاد علی اور شمس الدین کو سونپی گئی۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں مایاوتی نے شمس الدین رائنی کو پیسہ لینے کے الزام میں جم کر لتاڑ لگائی۔

اتحاد کی جانب سے بی ایس پی نے 38، سماجوادی پارٹی 37 اور آر ایل ڈی 3 سیٹوں پر انتخاب لڑی تھی جبکہ امیٹھی اور رائے بریلی سے کانگریس امیدوار کے خلاف اتحاد نے اپنا امیدوار نہیں کھڑا کیا تھا۔ بی ایس پی کے دس ارکان جیتنے میں کامیاب ہوئے جبکہ سال 2014 کے عام انتخابات میں بی ایس پی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔ واضح رہے مایاوتی کے بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ اتحاد کا مستقبل تاریک ہے اور یہ بی جے پی کے لئے اچھی خبر ہے۔

Source بشکریہ قومی آواز بیورو—

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading