’اب ہم اللہ کے سامنے ملیں گے‘: نائجیریا میں تاوان کی ادائیگی کے باوجود کم از کم 35 افراد قتل

نائجیریا میں اغوا کاروں نے شمالی ریاست زمفارا کے ایک گاؤں سے اغوا کیے گئے 35 سے زیادہ افراد کو تاوان وصول کرنے کے باوجود قتل کر دیا ہے۔بی بی سی کو ایک مقامی افسر نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔حالیہ برسوں میں ملک میں جرائم پیشہ گروہوں نے رقم اکھٹی کرنے کے لیے اغوا کی وارداتوں کا سہارا لیا ہے۔

رواں برس مارچ میں بانگا نامی گاؤں سے 56 افراد کو اغوا کیا گیا تھا اور اغوا کاروں نے ان کی رہائی کے لیے 10 لاکھ نائجیرین نائرا (655 ڈالر) کا مطالبہ کیا تھا۔مقامی حکومت کے چیئرمین منیرو حیدارا کورا کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نوجوان افراد تھے جنھیں ’بھیڑوں کی طرح زبح کیا گیا‘ ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’بینڈٹس (جرائم پیشہ افراد) نے تاوان کا مطالبہ کیا تھا اور کچھ لیت و لعل کے بعد انھیں تاوان دے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے 17 خواتین اور ایک لڑکے کو سنیچر کو رہا کر دیا تھا۔‘

’صرف مسلح افراد کو ہی معلوم ہے کہ باقی افراد کو کیوں قتل کیا گیا ہے۔ وہ بے عقل اور بد دل لوگ ہیں، وہ یہ بھول گئے کہ وہ اپنے ہی بھائیوں کو قتل کر رہے ہیں۔ اب ہم اللہ کے سامنے ملیں گے۔‘

سنیچر کو رہا ہونے والوں میں سے 16 افراد اس وقت ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جبکہ ہلاک ہونے والے 38 افراد کی لاشیں مسلح افراد کے پاس ہی ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading