چنئی: تمل ناڈو میں وزیر اعلیٰ جوزف وجئے کی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں خواتین کے لیے ایک بڑا تحفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے "انّن سیر تھٹّم” (Brother’s Gift Scheme) کے تحت ریاست کی مستحق خواتین کو شادی کے موقع پر 8 گرام کا سونے کا سکہ اور ایک ریشمی ساڑی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے بجٹ میں 812 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر خزانہ این۔ میری ولسن نے اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے خواتین، نوجوانوں، طلبہ، کھیل اور ہنر مندی کی ترقی کو ترجیح دی۔ بجٹ کی سب سے زیادہ زیر بحث اسکیم "انّن سیر تھٹّم” رہی، جس کے تحت نئی دلہنوں کو ایک ساورن یعنی 8 گرام کا سونے کا سکہ اور ایک ریشمی ساڑی تحفے میں دی جائے گی۔
ٹی وی کے حکومت نے اپنے انتخابی منشور میں اس اسکیم کا وعدہ کیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ریاست کے ہزاروں غریب خاندانوں کو فائدہ ہوگا اور بیٹی کی شادی کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ اسی مقصد کے لیے بجٹ میں 812 کروڑ روپے کی خصوصی فراہمی کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ بجٹ میں طلبہ کے لیے مفت لیپ ٹاپ اسکیم، مصنوعی ذہانت (AI) کی تربیت، نئے آئی ٹی آئی اداروں کا قیام، طلبہ کے لیے نئے ہاسٹل، حج سبسڈی میں اضافہ اور اولمپکس کی تیاری کے لیے خصوصی تربیتی مراکز قائم کرنے جیسے کئی اہم اعلانات بھی کیے گئے ہیں۔
بجٹ تقریر کے دوران حکومت نے ریاست کی مالی حالت پر ایک وائٹ پیپر بھی پیش کیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ سابق حکومت کی مالی پالیسیوں کے باعث ریاست پر مجموعی قرض بڑھ کر 13.18 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ ریاست کی آمدنی میں کمی اور محصولات کے خسارے کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
وزیر خزانہ این۔ میری ولسن نے وزیر اعلیٰ جوزف وجئے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں چند مخصوص جماعتوں اور افراد کو ہی سرکاری ٹینڈرز میں ترجیح دی جاتی تھی، مگر موجودہ حکومت نے اس روایت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس بجٹ اور خصوصاً سونے کے سکے اور ریشمی ساڑی والی اسکیم پر سخت تنقید کی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ریاستی خزانے پر بھاری مالی بوجھ پڑے گا اور یہ ایک غلط روایت قائم کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق بعض افراد اس فیصلے کو عدالت میں بھی چیلنج کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔اگر چاہیں تو میں اس خبر کے لیے مختصر اردو ہیڈلائن اور یوٹیوب تھمب نیل کی عبارت بھی تیار کر سکتا ہوں۔