تیجسوی یادو اور ممتا بنرجی سمیت تمام اپوزیشن لیڈروں کی جانب سے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد تیار کی گئی ووٹر لسٹ کی بنیاد پر کرائے گئے انتخابات کو منسوخ کرنے کے مطالبے کے درمیان سی پی آئی-ایم ایل (مالے) نے ’بہار ووٹر سروے 2026‘ رپورٹ جاری کر کے انتخابی نتائج پر ایس آئی آر کے اثرات کو لے کر نئے سوالات کھڑے کیے ہیں۔ مالے نے بہار کی 2 اسمبلی نشستوں اگیاؤں اور زیرہ دیئی کے 10-10 بوتھوں کا مئی-جون 2026 میں گھر گھر سروے کیا اور اخذ کیا کہ ایس آئی آر کے دوران جن ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے، ان میں سے بڑی تعداد میں ووٹر اپنے گھروں پر موجود ہیں۔
سروے کے مطابق بھوجپور علاقے کی اگیاؤں اسمبلی (محفوظ) میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 2.73 لاکھ ہے۔ ایس آئی آر کے دوران اسمبلی کی سطح پر 20,551 نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے تھے۔ مالے نے ایس آئی آر کے دوران کیے گئے ڈیلیشن کی جانچ کے لیے 4 بوتھوں کا سروے کیا۔ اس دوران 735 لوگوں کا سروے کیا گیا اور ان میں 77 (10.4 فیصد) لوگ ایسے ملے، جو اپنے گھر پر موجود تھے۔ سروے کے مطابق پوری اسمبلی پر ایس آئی آر ڈیلیشن کا تخمینی اثر 2,137 ووٹوں کا ہے۔
اسی طرح پارٹی نے پری-ایس آئی آر ڈیلیشن اور پری-ایس آئی آر ایڈیشن کی جانچ کے لیے بھی 3-3 بوتھوں کا سروے کیا۔ ایس آئی آر سے پہلے اگیاؤں اسمبلی میں 5,565 نام حذف کیے گئے تھے، لیکن 3 بوتھوں کے 204 ووٹرز کے سروے میں پارٹی نے پایا کہ 46 (22.5 فیصد) ووٹر اپنے گھر پر موجود ہیں۔ اسی طرح ایس آئی آر سے پہلے اگیاؤں میں 10,611 ووٹرز ووٹر لسٹ میں شامل کیے گئے تھے۔ اس کے لیے 3 بوتھوں پر 209 ووٹرز کا سروے کیا گیا اور 29 ووٹر (13.9 فیصد) سروے ٹیم کو نہیں ملے۔
ان دونوں پیمانوں کے لیے مالے نے جنوری 2024 سے جون 2025 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنایا، جبکہ ایس آئی آر کے دوران ہوئے ڈیلیشن کے لیے ایس آئی آر کے بعد کی ووٹر لسٹ کو منتخب کیا گیا۔ سی پی آئی-ایم ایل کے این سائی بالاجی بتاتے ہیں کہ ’’سروے 2 مراحل میں کیا گیا، پہلے مرحلہ میں ہم نے ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے لوگوں کا سروے کیا، اور دوسرے مرحلہ میں اس بات کی جانچ کی گئی کہ مذکورہ ووٹر کا نام ووٹر لسٹ میں شامل ہوا یا نہیں۔ پہلا مرحلہ مئی-جون 2026 میں مکمل ہوا، جبکہ دوسرا مرحلہ ستمبر 2026 میں ہوا۔ ہم نے سروے ایس آئی آر مکمل ہونے کے بعد کیا ہے۔‘‘
اگیاؤں میں 2025 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے امیدوار مہیش پاسوان نے سی پی آئی-ایم ایل کے امیدوار شیو پرکاش رنجن کو 95 ووٹوں سے ہرایا تھا۔ مہیش پاسوان کو 69,412 ووٹ ملے تھے، جبکہ مالے کے شیو پرکاش رنجن نے 69,317 ووٹ حاصل کیے۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں سی پی آئی-ایم ایل کے منوج منزل نے اس نشست پر 63.09 فیصد ووٹ حاصل کر کے جے ڈی یو کے پربھوناتھ پرساد کو 48,550 ووٹوں سے شکست دی تھی۔
اگیاؤں کی طرح زیرہ دیئی اسمبلی میں بھی سروے کے نتائج حیران کن ہیں۔ ایس آئی آر کے دوران اسمبلی وار مجموعی ووٹرز کی فہرست سے 19,067 نام حذف کیے گئے تھے۔ اس کی جانچ کے لیے مالے نے 4 بوتھوں پر 665 ووٹرز کا سروے کیا اور پایا کہ 122 (18.3 فیصد) ووٹر اپنے گھر پر موجود ہیں۔ سروے کے مطابق پوری اسمبلی پر اس کا تخمینی اثر 3,489 ووٹوں کا ہے۔ 2025 کے اسمبلی انتخابات میں زیرہ دیئی نشست پر مالے کے امیدوار امرجیت کشواہا کا مقابلہ جے ڈی یو کے بھیشم پرتاپ سنگھ سے تھا، انتخابی نتائج میں جے ڈی یو نے 2,626 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ 2020 میں اسی نشست پر امرجیت کشواہا نے 25,510 ووٹوں سے بڑی جیت حاصل کی تھی۔