آکولہ میں بابری مسجد کے فیصلہ پر احتجاجی اجلاس عام کا انعقاد

آکولہ: (سید اسرارحسین آکولہ) مورخہ 6 دسمبر بابری مسجد بازیابی کمیٹی،آکولہ کے زیر اہتمام یوم سیاہ کے موقع پر بعد نماز جمعہ مومن پورہ مسجد میں احتجاجی اجلاس عام بعنوان بابری مسجد فیصلہ!ایک جائزہ کا انعقاد کیا گیا جس میں عوام کی جانب سے بابری مسجد کہ سلسلے میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ کی سخت مذمّت کی گئی –

مقررّین نے سامعین کو بتایاکہ بہت ساری سچائیوں کو قبول کرنے کے باوجود فیصلہ فریق مخالف کے حق میں دیا گیا. سابقہ ججوں اور بڑی عدالتوں کے وکلاء اور دیگر دانشوروں کی رائے اس یکطرفہ فیصلے کے حق میں نہیں ہے. سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا وقت رہتے ایک جائزہ بہت ضروری سمجھا جا رہا ہے. آخر وہ کون سے نکات تھے جو بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی بنیاد بنے. قانون پر آستھا کی بالادستی کے اس کرشمے نے انصاف پسندوں بالخصوص مسلمانوں کے اعتماد کو متزلزل کردیا ہے.

اس احتجاجی اجلاس عام کی ابتدا قاری احسان شاہ صاحب کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوئی نیز محترم عادل ملک صاحب نے ایک ترانہ پیش کیا –

اسکے بعد محترم مولانا طفیل احمد ندوی صاحب (امام و خطیب نگینہ مسجد آکولہ) نے *شہادتِ بابری مسجداور سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ۔ ایک تجزیہ* اس عنوان کے تحت ایک پر مغز تقریر کی اور فرمایا کہ بابری مسجد ایک مسجد تھی ،ہے،اور ہمیشہ مسجد رہے گی انشاء اللہ…

ہم صرف اللہ اور اسکے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے احکامات کو ماننے کے مکلف ہیں – مسلمان کسی غصب شدہ زمین پر مسجد بنا ہی نہیں سکتا اسلامی تعلیمات اور شریعت اسکی اجازت نہیں دیتا-

مسجدوں سے ہی ملت کا وجود باقی ہے –

اسکے بعد محترم جناب عبدالوہاب ملک صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بے شمار تضادات کا پلندہ ہے اور ھمیں اسکے فیصلے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے مظاہرے کرنے ہوں گے اور ہمیں اللہ سے ابابیلوں کے لشکروں کی دعا کرنی چاہیے- اِس پروگرام میں مقررّین کے علاوہ مفتی محمّد اشفاق صاحب قاسمی، مولانا طاہر صاحب مظاہری، مولانا سیّد مظفّر علی ظفر صاحب مظاہری، مولانا عزیز الدّین فلاحی اور حافظ رضوان صاحب بطور مہمانان خصوصی موجود رہے –

آخر میں اس پروگرام کا اختتام مفتی محمّد اشفاق صاحب قاسمی کی دعا پر ہوا – کثیر تعداد میں شریک سامعین نے اِس پروگرام کو کامیاب بنا دیا –

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading