آسام : پولیس اسٹیشن میں حاملہ خاتون سمیت تین بہنوں کے کپڑے اتار‌ کر پیٹا، دو پولیس اہلکار سسپنڈ !

واقعہ آسام کے درانگ ضلع‎ کا ہے۔ خواتین کے بھائی پر مبینہ طور پر ایک ہندو خاتون کو اغوا کرنے کا الزام ہے، جس کی پوچھ تاچھ کے لئے ان کو پولیس کے ذریعے حراست میں لیا گیا تھا ، خواتین کمیشن کی نوٹس

نئی دہلی ۔ 18 ستمبر 2019
آسام کے درانگ ضلع میں ایک پولیس اسٹیشن میں حراست میں تین بہنوں کو ہراساں کرنے کا الزام ہے۔ ان خواتین کے بھائی کے خلاف ایک ہندو خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کے الزام میں معاملہ درج کیا گیا تھا، جس کے بعد ان خواتین کو پوچھ تاچھ کے لئے پولیس اسٹیشن لایا گیا تھا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ان خواتین کے کپڑے اتار‌کر ان کو لاٹھیوں سے پیٹنے کا الزام ہے۔

ان الزامات کے بعد آسام کے ڈی جی پی کلدھر سیکیا نے کہا کہ منگل کو پولیس چوکی کے انچارج سب انسپکٹر مہیندر شرما اور ایک خاتون کانسٹیبل بنیتا بورو کو منگل کو سسپنڈ کر ان کے خلاف مجرمانہ معاملہ درج کیا گیا۔ ان پولیس اہلکاروں پر لگے الزامات کی ایک ہفتے کے اندر جانچ ہوگی۔ غور طلب ہے کہ ان تینوں خواتین میں سے ایک نے 10 ستمبر کو پولیس کو اس واقعہ کی تفصیلی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ سب انسپکٹر مہیندر شرما اور خاتون پولیس اہلکار بورو نے ہمارے کپڑے اتارے، ہمیں ہراساں کیا گیا اور ہمارے پرائیویٹ پارٹس کو چھوا گیا۔

ان تین بہنوں کی عمر 28، 30 اور 18 سال ہے۔ ان کو سب انسپکٹر شرما کی چھاپےماری کے دوران 9 ستمبر کو رات تقریباً 1.30 بجے حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا گیا کیونکہ ان کے بھائی پر ایک ہندو خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کا معاملہ درج ہیں۔ ان تینوں میں سے ایک خاتون نے شکایت درج کراتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کا پتہ لگنے کے بعد بھی ان تینوں کے ساتھ یہ ظلم و ستم ہوتا رہا۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ان کا بھائی اس ہندو خاتون کے ساتھ شلانگ میں تھا۔

شکایت گزار خاتون نے کہا، ‘ ان کا بھائی صبح 6.30 بجے اس ہندو خاتون کے ساتھ پولیس چوکی آیا۔ اس نے (بھائی) پوچھا کہ جب معاملہ اس کے خلاف درج ہے، تو ہمیں (بہنوں) کیوں اذیت دی جا رہی ہے تو اس پر پولیس نے اس کو بھی پیٹا۔ ‘ شکایت گزار خاتون نے کہا کہ اس کا بھائی شادی شدہ ہے لیکن اپنی بیوی سے الگ رہتا ہے ۔

درانگ ایس پی امت بھویاں نے کہا، ‘ 6 ستمبر کو ہندو خاتون کی فیملی کے ذریعے اغواء کا معاملہ درج کرایا گیا تھا۔ فی الحال وہ حراست میں ہیں۔ ‘ ایس پی امت بھویاں نے کہا کہ ہندو خاتون نے لوٹنے کے بعد بتایا کہ اس کو جبراً لے جایا گیا تھا۔ وہیں شکایت گزار خاتون کے مطابق، اس کا بھائی اور وہ ہندو خاتون پچھلے تقریباً دو سال سے رشتے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیملی کے پاس تمام ثبوت ہیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور یہ کوئی اغواکا معاملہ نہیں ہے ۔

خاتون کے مطابق، پولیس اسٹیشن میں خاتون پولیس اہلکار بورو کے ساتھ شرما نے ان کے کپڑے اتارے اور ان کو ہراساں کیا جبکہ ان کا بھائی جیل میں ہے۔ خواتین کے پاس تصویریں بھی ہیں، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان کے جسم پر چوٹ کے نشان ہیں۔ شکایت گزار خاتون نے گال پر لال رنگ‌کے نشان دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ پولیس کے ذریعے تھپڑ مارے جانے کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ خواتین نے بتایا کہ جب ہم نے شرما سے کہا کہ وہ ہمیں کیوں لےکرآیا ہے تو اس نے ہمیں بندوق دکھاتے ہوئے کہا کہ زیادہ مت بولو ۔

اس نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں میرے شوہر کو بند کر دیا اور میری بہن کے کپڑے اتار‌کر اس کی لاٹھی سے پٹائی کی گئی۔ اس نے کہا، ‘ میری بہن کے دائیں پاؤں میں دقت ہے لیکن انہوں نے (پولیس) اس کے دائیں پاؤں پر بھی حملہ کیا۔ میری بڑی بہن کو بھی ٹارچرکیا گیا، جبکہ ہم نے ان کو بتایا کہ وہ حاملہ ہے، اس پر شرما نے کہا کہ نوٹنکی مت کرو۔ میری دونوں بہنوں کی پٹائی کے بعد انہوں نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔ ‘ خاتون نے کہا کہ ہمیں انصاف چاہیے، چوکی میں شرما اور بنیتا بورو کے ساتھ تعینات چار سے پانچ پولیس اہلکاروں کو بھی ان کے کیے کے لیے سزا دی جانی چاہیے ۔

قومی کمیشن برائے خواتین نے ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف ریاستی پولیس سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی کمیشن برائے خواتین نے بدھ کے روز آسام کے ضلع دارنگ میں ایک پولیس چوکی میں تین خواتین کو مبینہ طور پر برہنہ کرنے اور ان کے ساتھ مار پیٹ کرنے کے ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف ریاستی پولیس سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیشن نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے یہاں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل سے اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کو کہا گیا کہ ملزم افسران کو سخت سے سخت سزا ملے۔ اس معاملے میں دو پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔

کمیشن کے مطابق یہ واقعہ اس لیے بھی افسوسناک ہے کیونکہ اس کو پولیس افسران نے انجام دیا ہے، جو امن و امان برقرار رکھنے اور جن پر عوام خصوصا خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری ہے ۔

کمیشن سے وابستہ افسر نے کہا کہ جن خواتین کو پولیس اہلکاروں نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے وہ کسی جرم میں ملوث نہیں ہیں بلکہ ان پر اپنے بھائی کو بچانے کا الزام ہے جو ایک عورت کو بھگاکر لے گیا ہے۔

خواتین کمیشن نے کہا کہ اس واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔

واضح ر ہے کہ میڈیا میں آئی رپورٹ کے مطابق تینوں بہنوں نے آسام پولیس پر ضلع درانگ کی پولیس چوکی میں اذیت دینے، برہنہ کرنے اور پٹائی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

ان خواتین میں سے ایک کا دعویٰ ہے کہ وہ حاملہ تھی اور پٹائی کی وجہ سے اس کا حمل ضائع ہو گیا۔ ان خواتین کو پولیس نے نو ستمبر کو ان کے بھائی کے خلاف خاتون کا اغوا کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading