گواہاٹی ،15مئی (یواین آئی)ایسے وقت جب جنوبی آسام کے ضلع ہیلاکانڈی میں فرقہ وارانہ تصادم کے بعد کرفیو نافذ تھا ایک مسلم آٹورکشا ڈرائیور نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر اپنے ہندوپڑوسی کی مددکرکے اعلی انسانی جذبہ کا ثبوت دیاہے ۔مقصود حسین لشکر کے اس جذبہ کو ضلع انتظامیہ نے بھی تسلیم کیاہے ۔مقصودحسین نے 12مئی کو راجیشورپور پارٹ ۔1گاؤں کے اپنے پڑوسی روبن داس وقت مددکی جب انکے پاس درزہ میں مبتلا اپنی بیوی کو اسپتال لے جانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔
مقبول نے کرفیوکےدوران اپنی زندگی کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنا آٹورکشا نکالا اور روبن اور اسکی بیوی کو ایس کے رائے سول اسپتال پہنچایا جوکہ اسکے گاؤں سے کچھ کلومیٹر کے فاصلہ پر تھا۔شام کو اسپتال میں روبن کی بیوی نے ایک صحت مندبچے کو جنم دیا اور اس جوڑے نے تمام فرقوں کے مابین امن وآشتی کی امیدکےساتھ اپنے بچے کانام ’شانتی ‘ رکھ دیا۔
مقصود حسین کے اس عظیم کام کی خبر جیسے ہی اسپتال میں پھیلی تو ایس کے رائے سول اسپتال کے منتظم بھاسکر داس نے کہاکہ یہ واقعہ ہندو۔مسلم اتحاد اور اخوت کی ایک انوکھی مثال ہے ۔
ہیلاکانڈی کے ڈپٹی کمشنر کیرتی جلی اور پولیس سپرنٹنڈنٹ موہنیش مشرا نے روبن کے گھر جاکر انھیں مبارک باد دی ۔
کیرتی جلی نے کہا،’’یہ سن کر اچھا لگا کہ والدین نے بچے کا نام شانتی رکھاہے اس امیدکےسا تھ کہ ہیلاکانڈی میں پائیدارامن قائم ہوگا۔میں مقصود کو اسکی جانبازی اور فرقہ وارانہ بھائی چارہ کےلیے مبارک باد دیتاہوں ۔ہمیں ہندو۔مسلم اتحاد اور بھائی چارہ کی ایسی مزید مثالوں کی ضرورت ہے ۔”
ہیلاکانڈی میں ایک مسجد کے باہر تصادم کے بعد 10مئی کو کرفیونافذ کردیاگیاتھا جو اس دن بھی نافذتھا۔اس واقعہ میں ایک شخص کی موت ہوگئی تھی ۔کل سے دن کے وقت کرفیوہٹالیاگیاہے جبکہ رات کے دوران آسام کے اس جنوبی ضلع میں اب بھی کرفیونافذ ہے ۔