راشٹروادی کانگریس میں بڑی سیاسی ہلچل! مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والی نونیت رانا کیا این سی پی میں شامل ہونے جا رہی ہیں؟ سنیترہ پوار سے ملاقات کے بعد قیاس آرائیاں تیز

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں اس وقت راجیہ سبھا کی خالی نشست کو لے کر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ سابق رکنِ پارلیمنٹ نونیت رانا کی نائب وزیر اعلیٰ اور این سی پی کی صدر سنیترہ پوار اور پارتھ پوار سے حالیہ ملاقاتوں کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ان ملاقاتوں کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ نونیت رانا جلد ہی این سی پی میں شمولیت اختیار کر سکتی ہیں یا انہیں راجیہ سبھا کے لیے امیدوار بنایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ نونیت رانا نے ایک فرقہ پرست سیاسی پارٹی کا ساتھ دیتے ہوئے ہمیشہ سے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا ہے۔

سنیترہ پوار کے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینے کے بعد خالی ہونے والی نشست پر 18 جون کو ضمنی انتخاب ہونا ہے۔ اس نشست کے لیے کئی نام زیرِ غور ہیں اور نونیت رانا کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اسی پس منظر میں ان کی سنیترہ پوار، پارتھ پوار اور دیگر اہم رہنماؤں سے ملاقاتوں کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر مہایوتی اتحاد میں اتفاق رائے بن جاتا ہے تو نونیت رانا کو راجیہ سبھا بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم این سی پی کی جانب سے ابھی تک ان کی شمولیت یا امیدوار بنائے جانے کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

دوسری جانب این سی پی کے اندر بھی اس نشست کے لیے کئی دعویداروں کے نام زیرِ گردش ہیں، جس کے باعث سیاسی سرگرمیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اب سب کی نظریں پارٹی قیادت کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں کہ راجیہ سبھا کی اس اہم نشست کے لیے کس نام پر مہر لگائی جاتی ہے۔

فی الحال نونیت رانا کے این سی پی میں شامل ہونے یا راجیہ سبھا امیدوار بننے کی خبروں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن ان کی مسلسل ملاقاتوں نے مہاراشٹر کی سیاست میں نئی چہ میگوئیوں کو جنم دے دیا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading