طلاق ثلاثہ سے متعلق آرڈیننس کو صدر رام ناتھ كووند کی منظوری

نئی دہلی ۔13۔جنوری ۔طلاق ثلاثہ سے متعلق بل اور دو دیگر بلوں کے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں منظور نہ ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ دوبارہ لائے جانیوالے متعلقہ آرڈیننس کو صدر رام ناتھ كووند نے آج منظوری دے دی۔ طلاق ثلاثہ کی روایت کو فوجداری کے تحت جرم قرار دینے سے متعلق مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) بل 2018، میڈیکل کونسل آف انڈیا (ترمیمی) بل 2018 اور کمپنی (ترمیمی) بل، 2019 لوک سبھا میںتو منظور ہو گئے تھے لیکن انہیں راجیہ سبھا میں منظور نہیں مل سکی تھی۔ لہذا کابینہ نے گزشتہ 10 جنوری کو دوبارہ آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا۔

تین طلاق اور میڈیکل کونسل پر آرڈیننس گزشتہ سال ستمبر میں اور کمپنی قانون میں ترمیم کے لئے آرڈیننس گزشتہ سال نومبر میں لایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں تینوں سے متعلق بل لوک سبھا میں منظور ہو گئے، لیکن هنگامے کی وجہ سے راجیہ سبھا میں زیادہ تر وقت کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایوان بالا میں منظور نہیں ہو سکے۔واضح رہے کہ آرڈیننس لانے کے بعد اگلے پارلیمنٹ سیشن کے شروع ہونے کے 42 دن کے اندر اس سے متعلق بل اگرپارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظور نہیں ہو پاتا ہے تو آرڈیننس خود بہ خود خارج ہو جاتا ہے لہذا حکومت کو تینوں آرڈیننس دوبارہ لانے پڑے ہیں۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading