آخرکار تُکارام مُنڈھے نے اپنی غلطی تسلیم کرلی، شاہ رخ اور اجے کو نوٹس کے بعد کارروائی پر کھل کر اظہارِ خیال

ممبئی:مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے کمشنر تُکارام مُنڈھے ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ اس مرتبہ ان کے نشانے پر بالی ووڈ کے معروف اداکار شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف ہیں۔ FDA نے تینوں اداکاروں کو ’وِمل الائچی‘ کے اشتہار کے معاملے میں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔

شاہ رخ، اجے اور ٹائیگر کو نوٹس کیوں؟

FDA کا الزام ہے کہ ’وِمل الائچی‘ کے نام سے نشر ہونے والا اشتہار دراصل ممنوعہ پان مسالہ اور تمباکو مصنوعات کی بالواسطہ تشہیر یعنی ’سروگیٹ ایڈورٹائزنگ‘ کے دائرے میں آتا ہے۔ محکمہ کے مطابق اشتہار میں استعمال ہونے والا برانڈ نام اور انداز صارفین کے ذہن میں ’وِمل‘ پان مسالہ کی شناخت پیدا کرتا ہے۔

FDA نے تینوں اداکاروں سے اس معاملے میں وضاحت طلب کی ہے اور اشتہار سے متعلق تشہیری مواد سوشل میڈیا سے ہٹانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ انہیں جواب دینے کے لیے 15 دن کی مہلت دی گئی ہے۔

تُکارام مُنڈھے کا دوٹوک موقف

کارروائی پر بات کرتے ہوئے تُکارام مُنڈھے نے واضح کیا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ کوئی شخص کتنا ہی بڑا اسٹار کیوں نہ ہو، اگر قوانین کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو کارروائی سے کسی کو بھی استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔

مُنڈھے کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا کہ FDA کی کارروائی کا مقصد کسی مخصوص اداکار کو نشانہ بنانا نہیں، بلکہ ممنوعہ تمباکو اور پان مسالہ مصنوعات کی بالواسطہ تشہیر پر قابو پانا اور عوامی صحت کا تحفظ کرنا ہے۔

معاملہ مزید سنگین کیوں؟

مہاراشٹر میں تمباکو اور نکوٹین پر مشتمل گٹکھا اور پان مسالہ پہلے ہی ممنوعہ مصنوعات کی فہرست میں شامل ہیں۔ ایسے میں اگر کسی دوسرے پروڈکٹ کے نام اور اشتہار کے ذریعے ممنوعہ مصنوعات کی تشہیر ہونے کا شبہ ہو تو FDA اس کی جانچ کر سکتا ہے۔

اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ شاہ رخ خان، اجے دیوگن اور ٹائیگر شروف FDA کے نوٹس کا کیا جواب دیتے ہیں اور اس کے بعد محکمہ کی جانب سے مزید کیا کارروائی کی جاتی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading