محمد سکندر محمد مولانا کی آج شمولیت ‘ناندیڑمیں ایم آئی ایم مزید مستحکم
ناندیڑ:25نومبر(نامہ نگار)حالیہ دنوں میں ضلع صدر ایم آئی ایم جناب فیروز لالہ مجلس کے استحکام کے لئے دن رات اپنی متحرک و فعال ٹیم کے ساتھ سرگرم ہیں۔ ان کی کوششیں اس وقت رنگ لائیں جب شہر کی انتہائی کرشماتی فعال شخصیت محمد سکندر کو ان کی بے پناہ مقبولیت اور سماجی خدمات کے پیش نظر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اتوار کی شام سات بجے حیدر پٹرول پمپ کے روبرو ایک عظیم الشان جلسہ مجلس کی جانب سے منعقد کیا جارہا ہے جس میں ضلع بھر کے مجلسی عہدیداران، کارکنان اور ضلع صدر ایم آئی ایم فیروز لالہ کی موجودگی میں محمد سکندر محمد مولانا صاحب کی مجلس میں شمولیت عمل میں آئے گی۔ ایک طرح سے فیروز لالہ نے عین انتخابات سے قبل شطرنچ کی چال کھیلتے ہوئے بشمول کانگریس مخالف جماعتوں کے ہوش و حواس اُڑادیئے۔ دوسری طرف محمد سکندر کے حامیوں میں زبردست خوشی کی لہر دوڑ گئی اور بلامبالغہ ہزاروں کارکنان ان کے ہمراہ مجلس میں شامل ہورہے ہیں۔ ہر ایک کے دُکھ سکھ میں حصہ لینے والے محمد سکندر کی

شخصیت پر ایم نظر: کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جنہیں تاریخ بناتی ہے اور کچھ افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ ایسے ہی جیالے بے لوث مخلص اور معاشرے کی بھلائی کا سوچنے والے نوجوانوں میں محمد سکندر محمد مولانا صاحب کا بھی شمار ہے۔ جنہوں نے اپنی وسیع خدمات سے تاریخ بنائی ہے۔ شہر کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں ان کی مخلصانہ خدمات کا ذکر نہ ہوتا ہو۔ آج سماجی و مختلف محاذ پر سب سے زیادہ سرگرم رہنے والے اس نوجوان نے ملی خدمات کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا ہے۔ بہت سے ایسے مسائل ہیں جو بطور کارپوریٹر ہی حل کئے جاسکتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی شخصیت کی بنیاد پر عوامی مسائل کی یکسوئی کے لئے شدید محنت کی ہے۔ اسلام پورہ، ملت نگر اور دیگر بستیوں میں واقع مساجد کے راستوں پر مروم ڈلوانا ہو یا پھر مذہبی پروگرام کے انعقاد میں تعاون کرنا ان کا معمول رہا۔ بھلے ہی وہ کسی پارٹی سے وابستہ نہ ہو لیکن انہوں نے عوام کی خدمات کو اپنی زندگی کا ایک حصہ بنالیا ہے۔محمد سکندر محکمہ پولیس سے بھی وابستہ رہے ہیں اور پولیس والوں کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اس لئے بے قصور مسلم نوجوانوں کی پولیس کی جانب سے گرفتاری اور زیادتی پر وہ آگے بڑھتے رہے اور ایسے نوجوانوں کا مستقبل برباد ہونے سے بچاتے ہوئے انہیں رہا کروایا ہے۔ پولیس محکمہ سے وابستگی کے باعث انہیں قانون کی مختلف دفعات سے اچھی طرح واقفیت رہی ہے اور اس کا فائدہ وہ اکثر و بیشتر اٹھاتے رہے ہیں۔ ملت کے صحت مند نوجوانوں کو پولیس ملازمت فراہم کروانے میں بھی ان کا تعاون رہا ہے۔ مسلم معاشرے میں میاں بیوی میں رنجشوں، تلخیوں کو دور کرنے کے لئے انہوں نے ایک ٹیم بنائی جس کی وجہ سے کئی ٹوٹتے ہوئے رشتے پھر سے جڑ گئے اور آج ان گھروں میں سکون و اطمینان پایا جاتا ہے تو یہ محض محمد سکندر اور ان کی مخلص ٹیم کا کارنامہ ہے۔ جسے سنہری حرفوں میں لکھا جائے گا۔ جہیز، ہنڈا، گھوڑے جوڑے کی لعنت سے پریشان مسلم والدین جب ان سے ملتے ہیں تو مایوس نہیں لوٹتے کہ وہ غریب مسلم بچیوں کی شادی کے سلسلے میں ہر طرح کا تعاون کرتے ہیں۔ مختلف بیماریوں کے شکار افراد کے لئے تو وہ مسیحا سے کم نہیں۔ انہیں اکثر اوقات میں آپ سرکاری دواخانہ میں موجود پائیں گے جہاں وہ غریب مریضوں کے علاج کے لئے ڈاکٹروں سے نمائندگی کرتے رہتے ہیں۔ سنگین حادثات کے موقع پر حاضر رہنا محمد سکندر کی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ ہر طریقے سے مسلم طبقہ کی رہنمائی کے باعث وہ ہر ایک میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ٹائر بورڈچیمبر کا حادثہ علاقہ کے لوگ اب تک نہیں بھولے جب وہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر مزدوروں کی زندگی بچانے کے لئے چیمبر میں اُترنے کے لئے تیار ہوگئے تھے۔ حکومت پچاسوں اسکیمیں جاری کرتی ہے اور ان کا فائدہ دلوانے کے لئے یہ نوجوان اپنے طور پر ہر اعتبار سے مدد فراہم کرتا ہے۔ راشن شاپ سے غریبوں کو اناج کی دستیابی کے لئے ہو یا پھر بلڈ ڈونیشن، امراض چشم کا کیمپ، ان کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں۔ نوجوان طبقہ کے لئے ان میں بڑی کشش ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہزاروں نوجوان ان کی ایک آواز پر اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ ان بچوں کی تعداد و تربیت اور کھیل کود کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے وہ آج بھی کوشاں ہیں۔ آپ علاقہ دیگلور ناکہ کے کسی بھی چوراہا پر کھڑے ہوکر کسی مظلوم کو آواز دیتا پائے تو قریب ہی آپ کو محمد سکندر حاضر ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ کارپوریٹر نہ ہونے کے باوجود علاقہ میں سب سے زیادہ مقبولیت انہی کی ہے۔ مزاج اتنا سادہ ہے کہ ہر سیاسی پارٹی اور اس کے قائدین سے ان کے خوشگوار تعلقات ہیں اور سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر وہ عوامی مسائل کی یکسوئی میں کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ آج جبکہ وہ مجلس میں شامل ہورہے ہیں ناندیڑ میں مجلس کی راہ آسان ہوگئی ہے اور بشمول کانگریس دیگر تمام سیاسی جماعتوں میں ایک انجانہ سا خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔