کسی صورت سازش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا، عمران خان

0 3

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا، ووٹنگ کا فیصلہ جو بھی ہو مزید تگڑا ہو کر ان کے سامنے آؤں گا، میں کسی صورت سازش کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان نے قوم سے کہا کہ وہ آج اپنے دل کی باتیں کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد عظیم تھا، ہمیں اسلامی فلاحی ریاست بننا تھا، کیونکہ اس سے براہِ راست ریاست مدینہ کا تصور ملتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے اسلامی ریاست کے بنیادی اصول اپنے منشور میں لکھے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے تھے کہ ’آپ کو سیاست میں آنے کی کیا ضرورت تھی؟‘انہوں نے صوفی بزرگ کے قول کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اللہ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا، اللّٰہ نے ہمیں پر دیے، لیکن انسان چیونٹیوں کی طرح رینگتا رہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے وہ وقت دیکھا جب پاکستان ترقی کر رہا تھا، دنیا میں پاکستان کی ترقی کی مثالیں دی جاتی تھیں، لوگ یہاں دیکھنے آتے تھے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بعد میں ہم نے اس ملک کی ترقی کو نیچے آتے اور ذلیل ہوتے دیکھا۔وزیراعظم نے کہا کہ اللہ نے ہمیں عظیم صلاحیتیں دی ہیں، لیکن اس کے لیے رسٹرکشنز لگائی ہیں۔ اقبال کا شاہین کس وقت اوپر جاتا ہے، جب وہ اپنے سامنے مسائل کا سامنا کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے پاکستان میں بچوں کو سیرت النبیﷺ پڑھانا چاہتا ہوں کیونکہ وہ عظیم ترین شخص تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمیشہ کہا کہ میں نہ کبھی کسی کے سامنے جھکوں گا نہ ہی اپنی قوم کو جھکنے دوں گا۔ مجھے جب اقتدا ملا تو فیصلہ کیا کہ ہماری خارجہ پالیسی آزاد ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا قطعی یہ مطلب نہیں تھا کہ میں بھارت یا امریکا مخالف ہوں گا، میں ان ممالک کے لوگوں کا مخالف نہیں ہوں، ان کی پالیسی کے خلاف ہوں۔