مہسا امینی حجاب معاملہ: ایران میں بدترین احتجاجی مظاہروں کے دوران 23 ہلاکتیں

323

ایران میں کرد خاتون مہسا امینی کی ملک کی ’اخلاقی پولیس‘ کے مبینہ تشدد سے ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کا سلسلہ ساتویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کا دائرہ ایران کے 80 شہروں تک پھیل چکا ہے اور سرکاری اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں اب تک 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سینکڑوں سیاسی و سماجی کارکنوں کی گرفتاری کی اطلاعات ہیں۔بی بی سی فارسی کے مطابق ایران میں حکام چاہتے ہیں کہ مظاہروں سے متعلقہ خبریں عوام تک نہ پہنچ پائیں اور اسی غرض سے بڑے علاقے میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ایران کے شمال مغربی شہر ساقیز سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ مہسا امینی جمعے کو تہران کے ایک ہسپتال میں تین دن تک کومے میں رہنے کے بعد وفات پا گئی تھیں۔انھیں 13 ستمبر کو تہران میں ’گشتِ ارشاد‘ پولیس کے اہلکاروں نے جب گرفتار کیا تھا تو مبینہ طور پر اُن کے سر پر پہنے ہوئے سکارف سے کچھ بال نظر آ رہے تھے۔’گشتِ ارشاد‘ ایرانی پولیس کے خصوصی یونٹ ہیں جنھیں اسلامی اخلاقیات کے احترام کو یقینی بنانے اور ’غیر مناسب‘ لباس پہنے ہوئے افراد کو حراست میں لینے کا کام سونپا گیا ہے۔ایرانی قانون کے تحت، جو اسلامی شریعت کی ایرانی تشریح پر مبنی ہے، خواتین کو اپنے بالوں کو حجاب (سر پر سکارف) سے ڈھانپنا چاہیے اور چست لباس پہننے پر پابندی ہے تاکہ جسم کے خدو خال نمایاں نہ ہوں۔اس واقعے کے عینی شاہدین نے بتایا تھا کہ گرفتاری کے بعد مہسا کو پولیس وین میں مارا پیٹا گیا، تاہم پولیس ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مہسا کو اچانک دل کا دورہ پڑا تھا۔ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ پولیس کی حراست میں مہسا امینی کی ہلاکت کی تحقیقات ہونی چاہییں تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے پر خدشات کا اظہار مغربی ممالک کی منافقت کا عکاس ہے۔ابراہیم رئیسی نے نیویارک میں گفتگو کے دوران طبی حکام کی اس رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق مہسا پر تشدد نہیں کیا گیا تھا تاہم کرد خاتون کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کرنے والے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ ان اطلاعات کا حوالہ دیتے ہیں جن کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مہسا کے سر پر ڈنڈے مارے اور ان کا سر اپنی گاڑی سے بھی ٹکرایا تھا۔ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہونے والے مظاہرے ’افراتفری پھیلانے کی کوشش‘ ہیں اور یہ قابلِ قبول نہیں۔ ابراہیم رئیسی نے کہا ’احتجاج کی آوازیں سنائی دیتی ہیں، لیکن احتجاج اور ہنگامہ آرائی میں فرق ہونا چاہیے۔‘انھوں نے برطانیہ اور امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے مغربی ممالک کی جانب سے اس معاملے پر آواز اٹھانے کو ’دوہرا معیار‘ قرار دیا۔نیویارک میں ہی امریکی نیوز چینل سی این این کی اینکر کرسچیئن امان پور نے ایرانی صدر کا انٹرویو اس وقت منسوخ کر دیا جب انھیں یہ علم ہوا کہ صدر رئیسی چاہتے ہیں کہ کرسچیئن امان پور یہ انٹرویو سر پر سکارف پہن کر کریں۔کرسچیئن امان پور نے اسے ’بےمثال اور غیر متوقع صورتحال‘ قرار دیا۔اُن کا کہنا ہے کہ رئیسی کے معاون نے انھیں بتایا کہ ایسا ’ایران کی موجودہ صورتحال‘ کی وجہ سے کیا گیا ہے۔،تصویر کا ذریعہChristiane Amanpour/ Twitterرئیسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک میں تھے اور یہ ان کا امریکی سرزمین پر پہلا انٹرویو تھا۔ امان پور نے کہا کہ وہ انٹرویو لینے کے لیے تیار ہیں، لیکن پھر صدر کے ایک معاون نے اصرار کیا کہ رئیسی چاہتے ہیں کہ وہ (امان پور) اپنے بالوں کو ڈھانپ کر رکھیں۔امان پور نے بعد میں ٹویٹر پر لکھا، ’ہم نیویارک میں ہیں، جہاں سر ڈھانپنے کے بارے میں کوئی اصول یا قانون نہیں ہیں۔‘انھوں نے کہا کہ صدر ریئسی کے معاون نے واضح طور پر کہا کہ اگر وہ سر پر سکارف نہیں پہنتیں تو انٹرویو نہیں ہو گا کیونکہ یہ ’عزت کا سوال‘ ہے۔ایران میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری
مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد ایران بھر میں ہونے والے مظاہروں کے بعد ملک میں ایسے افراد کی تعداد اطلاعات کے مطابق سینکڑوں میں ہے جنھیں حراست میں لیا گیا ہے۔ان افراد میں صحافیوں کے علاوہ سیاسی اور سماجی کارکن بھی شامل ہیں۔اسی سلسلے میں جمعرات کی صبح حکام نے سماجی کارکن آتنا دائمی کی بہن ہانیہ دائمی کو ان کے شوہر حسین فتحی کے ساتھ ان کے گھر سے گرفتار کیا ہے۔ہانیہ دائمی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انھیں اس گرفتاری کی وجہ کا علم نہیں ہے۔ہانیہ کی بہن انسیہ دائمی کا کہنا ہے کہ ہانیہ کو ان کے خاندان کو ’خاموش رہنے پر مجبور کرنے کے لیے‘ گرفتار کیا گیا۔آتنا دائمی سات برس قید رہنے کے بعد گذشتہ برس رہا ہوئی تھیں اور اس عرصے میں بھی ان کا خاندان ایرانی سکیورٹی فورسز کے دباؤ کا شکار رہا۔ 2016 میں، آتنا کی دو بہنوں انیسہ اور ہنیہ کو ’ڈیوٹی کے دوران افسران کی توہین‘ کے الزام میں تین ماہ اور ایک دن کی معطل قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ایرانی حکومت کے حق میں مظاہروں کا اعلان
پاسداران انقلاب اسلامی سے وابستہ خبر رساں ادارے تسنیم نے ایران کے مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد حکومت کے حق میں مظاہروں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حکومتی مظاہرہ ’فسادیوں کے خلاف عوام کا غصہ‘ ہے اور ’ایرانی متفقہ طور پر فسادات کی مذمت کرتے ہیں‘۔تسنیم کے مطابق، یہ مظاہرے مشرقی آذربائیجان، تہران، جنوبی خراسان، لرستان، قزوین، ہرمزگان، کاشان، قم، یزد، بوشہر، کرمان، وسطی، فارس، مغربی آذربائیجان اور ایلام کے صوبوں اور شہروں میں ہوں گے۔ایرانی حکومت سے منسلک میڈیا مہسا کی ہلاکت پر ہونے والے مظاہروں کو ’پریشان کن‘ اور غیرقانونی قرار دیتا ہےمہسا امینی کی موت کے بعد ایران میں متعدد سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے احتجاج کرنے کے لیے اجازت کا مطالبہ کیا تھا تاہم ایران کی وزارت داخلہ کی طرف سے ان تمام درخواستوں پر کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔،تصویر کا ذریعہEPAایرانی حکام پر پابندیاں اور ہیکنگ کی کوششیں
امریکی محکمہِ خزانہ نے اخلاقی پولیس اور سات ایرانی ملٹری اور سکیورٹی اہلکاروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس ادارے اور افراد پر ’ایرانی خواتین کے خلاف تشدد اور پرامن مظاہروں کے حقوق کی خلاف ورزی‘ کی وجہ سے پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ادھر ایران میں ایسنا نیوز ایجنسی کی ویب سائٹ جمعرات کی شام سے ناقابل رسائی ہے، اور isna.ir ایڈریس تک رسائی کی کوئی بھی کوشش نیوز ایجنسی کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لے جاتی ہے۔اینانیمس جو کہ دنیا کا سب سے بڑا ہیکنگ گروپ ہے اس کا دعوی ہے کہ اس نے گذشتہ تین دنوں میں ایران میں کئی سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کیا ہے۔اس گروپ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ شہر کے 1000 کیمروں کو غیر فعال کرنے کے قابل ہے تاکہ وہ مظاہرین کی شناخت اور احتجاجی اجتماعات کی نگرانی نہ کر سکیں۔اینانیمس نے پہلے ایرانی حکومت سے کہا تھا ’ہم آپ کو انٹرنیٹ پر بند کر دیں گے اور ایران کے اندر کے لوگ آپ کا تختہ الٹ دیں گے۔‘ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ دستیاب نہیں ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان کی ویب سائٹ ہیک کی گئی تھی یا نہیں۔،تصویر کا ذریعہTwitterعالمی ردعمل
امریکی کانگریس کی سپیکر نینسی پلوسی نے ٹوئٹر پر مہسا امینی کی موت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایرانی عوام کی بہادر آواز پوری دنیا میں سُنی گئی ہے۔ امریکی کانگریس مہسا امینی کی خوفناک موت پر سوگ میں ان کے ساتھ شامل ہے۔ تہران کو تشدد اور خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ بدسلوکی کی منظم مہم کو ختم کرنا چاہیے۔‘کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ایران سے کہا کہ وہ مظاہرین کو دبانا بند کرے اور اپنے عوام کے آزادی اظہار کے حق کا احترام کرے۔،تصویر کا ذریعہTwitterانھوں نے جمعرات کو ٹویٹر پر لکھا ’کینیڈا ان لوگوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے جو ایران میں اپنی رائے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں اور پرامن طریقے سے مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم ایرانی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اظہار رائے کی آزادی کو دبانے اور خواتین کے خلاف مسلسل ہراساں اور امتیازی سلوک بند کرے۔‘معروف ایرانی مصنفہ اور امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سابق پروفیسر آذر نفیسی کہتی ہیں کہ ’ایرانی خواتین ایک صدی سے زیادہ عرصے سے آزادی کے لیے لڑ رہی ہیں اور یہ ان کے لیے درآمد شدہ ثقافت نہیں ہے۔ ایک بار جب لوگ خوف اور دھمکی پر قابو پا لیتے ہیں، تو اسے واپس نہیں لیا جا سکتا۔‘