سالِ نو اور عمرِ رفتہ کا محاسبہ

369

ثناآفرین عَمري بنت عبدالمجید گلبرگہ تاریخ شاہد ہے کہ ہر قوم کےلیے ان کا اپنا کیلینڈر ہوتا ہے جسے وہ کسی نہ کسی واقعہ سے جوڑ کر اپنے سال کا آغاز کرتی ہے، جہاں یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ محض اس خاص دن میں فلاں طبقہ تعظیم کے لائق ہے اور فلاں شخص قابلِ احترام ہے.

مگر افسوس امت کی اس حالتِ زار پر کہ وہ اندھا دھند غیروں کی نقالی پر آمادہ ہے اور اس سنہری اصولوں سے غافل ہے جس سے مذہبِ اسلام مزین ہے، یہاں تک کہ امت کے بیشتر افراد اسلامی مہینوں کے نام اور اس کے آغاز اور ہجری کیلنڈر کی ترویج کے اسباب و عوامل سے لاعلم ہیں.

اب سے کچھ ہی دنوں میں ہم ایک محترم مہینے میں داخل ہونے جارہے ہیں جو اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم تقویمِ ہجری کے اسباب و عوامل پر غور کریں اور اس مہینے کی فضیلت و تقدس کو سمجھیں اور پھر زندگی کا ایک لائحہ عمل تیار کریں کہ آیا ہم نے رب کائنات کی اس عظیم نعمت کا شکر ادا کیا یا نہیں؟ آیا یہ وقت محاسبہ نفس کا ہے یا نہیں؟

ہجرت جو کہ دین اسلام کے فروغ کی اساس ہے اسی سے ہجری سال کا آغاز کیا گیا، تقویم اسلامی کا تعین امتِ مسلمہ کے لئے عظمت و رفعت اور فتح و نصرت کا عملی پیغام ہے.

یہ مہینہ مندرجہ ذیل خصوصیات کا حامل ہے:

1. یہ وہ مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عظمت و عزت سے نوازا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: *”السنة اثنا عشر شهراً منها أربعة حرم، ثلاثة متواليات ذو القعدة و ذو الحجة والمحرم و رجب مضر الذى بين جمادى و شعبان“* (متفق علیه) سال میں بارہ مہینے ہوتے ہیں جن میں چار مہینے حرمت والے ہیں، ان میں سے تین ذوالقعدہ، ذوالحجۃ اور محرم متواتر ہیں اور رجب مفرد ہے جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہے.

2. یہ مہینہ آپﷺ کا پسندیدہ مہینہ ہے، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں *”ما رأيت النبيﷺ يتحرى صيام يوم فضله على غير إلا هذا اليوم يوم عاشوراء و هذا الشهر يعنى شهر رمضان“* (بخاری) میں نے نہیں دیکھا کہ رسولﷺ کسی خاص دن روزہ کا اہتمام کرتے ہوں اور اس کو کسی دوسرے دن پر فضیلت دیتے ہوں سوائے دسویں محرم کے اور اس مہینہ یعنی رمضان المبارک کے مہینہ کے.

3. يہ مہینہ گناہوں سے معافی کا مہینہ ہے، کیونکہ آپﷺ نے فرمایا *”صيام يوم عاشوراء أحتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله“* (مسلم) مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن یعنی عاشوراء کا روزہ رکھنے والے کے گزشتہ سال کے گناہ معاف کرے گا.

4. روزہ رکھنے کے اعتبار سے یہ مہینہ رمضان کے بعد سب سے افضل مہینہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے معزز مہینہ ہے کیونکہ اس کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے، اور یہ اعزاز سال کے کسی اور مہینے کو نصیب نہیں ہوا، ارشاد ہے *”أفضل الصيام بعد رمضان شهر الله المحرم“* (مسلم) رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ اللہ کا مہینہ محرم کے روزے ہیں.

5. یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ نے ایک قوم موسی کی توبہ قبول کی اور فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی، رسولﷺ نے جہاں اس کی عظمت کو بیان کیا وہیں قرآن مجید نے اس بات کا حکم دیا کہ *”فلا تظلموا فیھن أنفسکم“* ان مہینوں میں جنگ وجدال مت کرو.

الغرض سالِ نو ہمارے لیے محاسبہ نفس کا موقع ہے کہ گزشتہ سال ہمارے نامۂ اعمال میں کتنی نیکیاں اور کتنی برائیاں لکھی گئیں؟ کیا ہم نے یہ سال ایسے نیک اعمال میں گزارے کہ کل قیامت کے دن ان کو دیکھ کر خوش ہوسکیں اور جو ہمارے ليے دونوں جہاں میں نفع بخش ثابت ہوں؟ یا ہم نے اپنے دن ایسے گزارے جو ہماری دنیا و آخرت کی ناکامی کا ذریعہ بنیں گے؟ ہماری عبادت وریاضت، اطاعت و طریقت احکام الٰہی کے مطابق رہیں یا پھر سود و زیاں کا باعث؟ ہمارے صدقات و زکوٰۃ ، فرائض و نوافل ہمارے نفس میں خشوع و خضوع کا باعث بنے یا محض عادتاً انجام دیا گیا کہ تمام تر مشقت کے باوجود نامہ اعمال میں بڑھوتری کا سبب نہ بن سکے!! معیشت و معاشرت اور اخلاقیات کے میدان میں ہمارے اخلاق نبیﷺ کے اخلاق کا نمونہ بنے یا نہیں؟ حقوق العباد والدین، رشتہ دار، پڑوسی، یتیموں اور بیواؤں وغیرہ کے حقوق کی ادائیگی کو ہم نے اپنا فرض منصبی سمجھا یا نہیں؟ اولاد کی تربیت کے معاملے میں ہم نے فرامین الٰہی کو مقدم رکھا یا محض دنیوی مقاصد کے حصول میں انہیں سرگرداں رکھا؟ حصول علم اور اس کے تقاضے کو مد نظر رکھا یا پس پشت ڈال دیا؟ غرضیکہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تئیں ہم سنجیدہ ہوئے یا محض حیوانی طرز عمل کو اختیار کرتے ہوئے زندگی کے مقاصد سے بے خبر روز و شب گزارنے میں مشغول ہیں؟
علاوہ ازیں سالِ نو ہجرت کے عظیم واقعہ کی یاد دلا کر اس عہد کی تجدید کرتا ہے کہ اگر مسلمانوں کو دینِ حق کی سر بلندی کے ليے مصائب و آلام سے دوچار ہونا پڑے تو ایسے پرآشوب دور میں کفر کے ساتھ رواداری کا رویہ اپناتے ہوئے اپنے عقائد ونظریات میں لچک نہ پیدا ہونے دیں خواہ اس کے لئے جان ومال کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے.

یہ وقت ہے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کا تاکہ ہم عند اللہ محبوب ہو سکیں اور وقت سے پہلے اپنے رب کو راضی کر سکیں، لہذا ہر نفس ایک طرف ایک سال اور ملنے پر سجدۂ شکر بجا لانے کا اہتمام کرے وہیں عمر کا ایک سال کم ہونے پر محاسبۂ نفس کا عمل بھی جاری رکھے اور پھر اپنی کوتاہیوں اور لغزشوں سے اجتناب برتنے کا عزمِ مصمم بھی کر لے اور رب کائنات کی بارگاہ میں دعاگو بھی اور ساتھ ہی تجدید عہد کرتے ہوئے عقائد و نظریات کو اپنے دلوں میں راسخ کرلے.

اللہ تعالیٰ ہمیں زندگی کے مقصد کو سمجھنے اور وقت کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین…