حیدرآباد:پروفیسر محمد علی اثر کا سانحہ انتقال

حیدرآباد 25/ اپریل(راست) قاضی اسد ثنائی کی اطلاع کے بموجب جامعہ عثمانیہ کے مایہ ناز سپوت، اردو کے نامور محقق و شاعر معروف ماہر دکنیات ڈاکٹر الحاج محمد علی اثر سابق پروفیسر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ کا جمعرات کی صبح اولین ساعتوں میں انتقال ہو گیا انا للہ وانا الیہ راجعون وہ طویل عرصے سے فریش تھے ان کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا اردو ادب بالخصوص دکنی ادب کا عظیم نقصان ہے

ڈاکٹر اثر نہ صرف اردو کے بڑے محققین میں شمار کئے جاتے تھے بلکہ وہ عمدہ شاعر بھی تھے تحقیق و تنقید اور شعر و ادب میں انہوں نے 70 سے زائد کتابیں اپنی یادگار چھوڑیں ہیں ڈاکٹر اثر کے انتقال سے دکنیات میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پر ہونا مشکل ہے- نماز جنازہ جمعرات 24/ اپریل کو بعد نماز ظہر جامع مسجد چوک میں ادا کی گئی مؤرخ جامعہ نظامیہ حضرت علامہ ڈاکٹر شاہ محمد فصیح الدین نظامی سابق مہتمم کتب خانہ جامعہ نظامیہ نے نماز جنازہ کی امامت کی اور دعاۓ مغفرت فرمائی .

نماز جنازہ میں مولانا عرفان اللہ شاہ نوری سیفی صدر مرکزی انجمن سیف الاسلام، پروفیسر مجید بیدار سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ، پروفیسر محمد نسیم الدین فریس سابق صدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، پروفیسر مختار حسین، ڈاکٹر عباس متقی، پروفیسر تاتار خان، ڈاکٹر عتیق اقبال، ڈاکٹر ناظم علی، محمد ذکی الدین لیاقت، محمد رضوان اللہ یزدانی، حافظ محمد معز الدین مکرم، عارف الدین احمد کے علاوہ مختلف ادبی انجمنوں کے نمائندے ڈاکٹر اثر کے تلامذہ دوست احباب اور رشت

ہ داروں نے شرکت کی تدفین قبرستان مسجد الماس چادر گھاٹ میں عمل میں آئی پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو صاحبزادے محمد عادل فراز، محمد سہیل افروز اور تین صاحبزادیاں شامل ہیں فاتحہ سہ یوم ہفتہ 27/ اپریل کو بعد نماز عصر جامع مسجد چوک میں مقرر ہے
دیگر تفصیلات کے لئے اثر صاحب کے فرزند محمد عادل فراز اور محمد سہیل افروز سے ان نمبرات 8448728970 /9848176637 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے