ٹیکٹ نے اس سے قبل انتباہ دیاتھا کہ احتجاج زراعی قوانین سے دستبرداری تک جاری رہے گا۔
غازی آباد۔بھارتیہ کسان یونین(بی کے یو) ترجمان راکیش ٹکیٹ نے جمعہ کے روز کہاکہ جاری کسانوں کے احتجاج میں غیر معینہ مدت کے لئے جائے گا کیونکہ اس کے متعلق کوئی وقت مقرر کرنے کا منصوبہ نہیں بنایاگیاہے۔

ٹکیٹ نے اے این ائی کو بتایاکہ”کسانوں کا احتجاج غیرمعینہ مدت کے لئے جاری رہے گا کیونکہ اس کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے یہ اکٹوبر تک جاری رہے گا“۔

انہوں نے یہ سمیوکت کسان مورچہ(ایس کے ایم) کے لیڈر گرونام سنگھ چرنی کے بیان کے جواب میں دیا ہے جنھوں نے کہاکہ اکٹوبر تک کسانوں کا احتجاج جاری رہے گا۔

ٹیکٹ نے اس سے قبل انتباہ دیاتھا کہ احتجاج زراعی قوانین سے دستبرداری تک جاری رہے گا او ریہ اکٹوبر تک جاری رہ سکتا ہے۔جمعہ کے روزانہوں نے ذکرکیاکہ غازی پور سرحد پر ہرسال2اکٹوبر کو ایک احتجاج کیاجائے گا۔

انہوں نے کہاکہ”غازی پور سرحد پر 2اکٹوبر2018کو کسانوں پر آنسو گیس کے شل اور گولیاں برسائی گئی تھیں۔ ہر سال ہم غازی پور سرحد پرپروگرام کریں گے اور اس سال بھی ہم کریں گے“۔

کسانوں کے مسئلے پر پارلیمنٹ میں بحث کے متعلق استفسار پر ٹکیٹ نے کہاکہ یہ اچھا ہے کہ مسائل پارلیمنٹ میں بحث کے لئے اٹھائے جارہے ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ ایک حقیقی وجہہ ہے جس کی وجہہ سے ملک کے کسان کافی عرصہ سے احتجاج کررہے ہیں۔

ٹکیٹ نے پوچھا کہ”سارے ملک کے کسان احتجاج کے لئے سڑکوں پر ہیں‘ کوئی حقیقی وجہہ تو ہے۔اگر کسانوں کو زراعی قوانین قابل قبول نہیں ہیں‘پھر کیا ان کو واپس لینے نہیں چاہئے؟“۔

انہوں نے کانگریس قائد راہول گاندھی کے تبصرے”ہم دو ہمارے دو“ پر رضامندی ظاہر کی کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ملک صرف چار لوگوں چلارہے ہیں۔ ملک کی درالحکومت دہلی کی مختلف سرحدوں پر نومبر26پچھلے سال سے کسان تین زراعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں