سری نگر: جموں و کشمیر میں کورونا کیسز میں آئے روز درج ہو رہے ہوش ربا اضافے کے پیش نظر انتظامیہ کی طرف سے اعلان کردہ جزوی لاک ڈاؤن پر بدھ سے عمل درآمد شروع ہو گیا ہے ۔بتا دیں کہ جموں وکشمیر انتظامیہ نے یونین ٹریٹری میں جزوی لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت بلدیاتی حدود کے اندر آنے والے بازاروں میں 50 فیصد دکان ہی کھلے رہیں گے اور مسافر بردار گاڑیوں کو اپنی گنجائش کے برعکس 50 فیصد سواریاں اٹھانے کی اجازت ہے نیز یونین ٹریٹری کے سبھی بیس اضلاع میں شبانہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے ۔یو این آئی اردو کے ایک نمائندے نے شہر سری نگر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ بازاروں میں پچاس فیصد دکان ہی کھلے تھے جبکہ مسافر بردار گاڑیوں میں بھی بہت کم سواریاں سوار تھیں۔انہوں نے بتایا کہ جزوی لاک ڈاؤن کو ممکن بنانے کے لئے پولیس اور متعلقہ حکام سرگرم ہیں اور کئی مقامات پر پولیس اور سرکاری عہدیدار گاڑیوں کو روک کر ان میں سواریاں چیک کر رہے ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ جزوی لاک ڈاؤن کو نافذ کرنے کے لئے سال گذشتہ کی طرح لوگوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جا رہی ہے جن لوگوں نے فیس ماسک نہیں لگائے ہوتے ہیں انہیں فیس ماسک فراہم کئے جا رہے ہیں نہ کہ انہیں زد کوب کیا جا رہا ہے ۔موصوف نمائندے نے کہا کہ بازاروں، دفاتر، گاڑیوں یا دوسری کام کی جگہوں پر قریب صد فیصد لوگوں کو فیس ماسک لگائے دیکھا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سری نگر میں ایس ایم سی کے ملازمین گاڑیوں میں نصب لائوڈ اسپیکروں سے لوگوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے احتراز کرنے اور فیس ماسک لگانے کے اعلان کر رہے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایس ایم سی کی یہ گاڑیاں مختلف علاقوں میں دن بھر گھوم رہی تھیں۔وادی کے دیگر اضلاع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق ان میں بھی جزوی لاک ڈاؤن پر عمل درآمد شروع ہوا ہے اور بلدیاتی علاقوں کے اندر بازاروں میں پچاس فیصد دکانیں ہی کھلی ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں