اترپردیش میں کانگریس کومہ میں

لکھنؤ: 24 مئی. اترپردیش میں پہلے سے ہی اکھڑی سانسیں لینی والی کانگریس اس وقت کومہ میں جانے کی حالت میں ہے اس انتخابات میں اسے صرف رائے بریلی سیٹ پر ہی کامیابی مل سکی ہے۔کانگریس صدر اہل گاندھی اپنی روایتی سیٹ امیٹھی ، یو پی ریاستی صدر راج ببر فتح پور سے اپنی سیٹ ہار گئے۔ راج ببر نے ریاستی صدر کے عہدے سے استعفی کی پیشکش کی ہے۔وہیں دوسری جانب امیٹھی میں کانگریس کی شکست کے بعد ضلع صدر یوگیند مشرا نے اپنا استعفی نامہ پارٹی صدر کو بھیجا دیا ہے۔ اپنے بھیجے گئے خط میں مسٹر مشرا نے لکھا ہے کہ ’’ وہ امیٹھی میں کانگریس کےہار کی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور اسی لئے ضلع کمیٹی کے صدارت سے استعفی دیتے ہیں‘‘۔سال 2017 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو صرف 7 سیٹوں پر کامیابی ملی تھی اور 2019 کے عام انتخابات میں اسے صرف ایک سیٹ پر کامیابی درج کی ہے ۔کانگریس کے کھاتےمیں صرف ایک سیٹ رائے بریلی کی آئی ہے جہاں سے یو پی اے چیئر پرسن سونیا گاندھی کو جیت ملی ہے۔ اس الیکشن میں پارٹی کو 6.3 فیصدی ووٹ ہی ملے ہیں۔

ایمرجنسی کے بعد ہوئے سال 1977 کے انتخابات کے بعد کانگریس کا یو پی میں سب سے خراب مظاہر ہ ہے۔اس وقت کانگریس کو یو پی کی تمام 85 پارلیمانی سیٹوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اس وقت وزیر اعظم اندرا گاندھی(رائے بریلی) اور سونیا گاندھی(امیٹھی) سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان تمام میں کانگریس کے لئے سب سے حیرا ن کن بات یہ ہے کہ نو منتخب جنرل سکریٹری و مشرقی اترپردیش کی انچارج پرینکا گاندھی جن سے پارٹی کو کافی امیدیں تھیں وہ بھی کچھ خاص اثر نہیں ڈال سکیں۔ناصرف یہ بلکہ امیٹھی میں تشہیر کرنے کے باجود وہ اس سیٹ کو کانگریس کے جھولے میں نہیں ڈال سکیں بلکہ رائے بریلی میں جیت کا مارجن بھی کافی کم ہوگیا۔گاندھی کے علاوہ یو پی اے میعاد کے سابق وزیر یو پی میں کوئی خاص مظاہرہ نہیں کرسکے اور تمام جگہوں پر تیسرے مقام پر رہے۔گاندھی کے ساتھ صرف دو دیگر کانگریس کے امیدوار ہی دوسرے مقام پرر ہے۔ان میں فتح پور سیکری سے راج ببر اور سری پرکاش جیسوال کانپور شامل ہیں۔کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے یو این آئی سے بات چیت میں بتایا کہ پارٹی قیادت اس پر غور وخوض کرے گی کہ اس الیکشن میں کہاں غلطی ہوئی اور کیونکر پارٹی کی جانب سے اٹھائے گئے معاملے ووٹروں میں مقبولیت کیوں نہیں حاصل کرسکے۔اب 2022 کے اسمبلی انتخابات کے لئے صرف 3 سال ہی بچے ہیں اور اگر ابھی سے پارٹی لیڈر کام کرنا شروع کریں گے تبھی پارٹی دوبارہ کھڑی ہوسکے گی۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading