طلاق ثلثہ:سپریم کورٹ میں سماعت مکمل’ فیصلہ محفوظ

 آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈکی دردمندانہ اپیل 
نئی دہلی:10۔اکتوبر:(ـراست )حضرت مولانامحمد عمرین محفوظ رحمانی مدظلہ(سکریٹری آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ)کے بموجب طلاق کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں جاری تاریخی مقدمہ کی چھ روزہ سماعت آج الحمدللہ پوری ہوچکی ہے ۔ شروع کے دنوں میں کورٹ کا جو رخ رہا  جس انداز میں وہاں بحث کی گئی اورسپریم کورٹ کی طرف سے جو باتیں سامنے آئیں، اس سے پورے ملک کے مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی، لیکن الحمدللہ اخیر کے دو دنوں میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل جناب کپل سبل صاحب اور دیگر وکلاء نے جس طرح کی بحث سپریم کورٹ میں کی ہے اور قانونی پہلوؤں پر نظر رکھتے ہوئے جس پرزور طریقے سے اپنا موقف رکھا ہے ،اس سے بڑی امید بندھی ہے اور واضح ہوکر یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلاق کا مسئلہ سماجی مسئلہ نہیں ہے، یہ خالص مذہبی مسئلہ ہے ، اور قرآن و حدیث سے مستنبط ھے ،جس میں مداخلت کی اجازت حکومت کو نہیں دی جاسکتی ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے وکلاء نے جو دلائل پوری قوت اور صراحت کے ساتھ سپریم کورٹ میں پیش کئے ھیں وہ قانونی اور شرعی لحاظ سے اطمینان بخش ھیں اور اللہ کی ذات سے پوری امید ہے کہ فیصلہ بہتر آئے گا اور حق کو فتح حاصل ہوگی انشاء اللہ ۔سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، یہ مرحلہ ملک کے تمام مسلمانوں کے لئے مرحلۂ دعا ہے اس لئے تمام مسلمانوں سے مردوں سے اور عورتوں ، نوجوانوں اور بوڑھوں سے میری یہ گزارش ہے کہ زیادہ سے زیادہ دعاؤں کا اہتمام کریں، صلوۃ الحاجت  پڑھ کر اللہ سے مانگیں، صدقہ و خیرات کا اہتمام کریں اور خاص طریقے پر رات کے اخیر پہر میں اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے آگے ہاتھ پھیلائیں اور عاجزی کے ساتھ رو کر گڑ گڑ اکر یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو غلبہ عطا فرمائے اور سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ میں اہل ایمان کو کھلی ہوئی فتح عطا فرمائے اور اس ملک میں قیامت تک با عزت طریقے پر مسلمانوں کے رہنے اور جینے کے فیصلے فرمائے۔
Leave a comment