Sachin Sawant News 11 Oct 24

بہرام پاڑہ، نوپاڑہ کے ہزاروں مکینوں کی از سرِ نو ترقی کا راستہ صاف

ریلوے کے حصار سے آزاد ہو کر لوگوں کو ملے گی کھلی ہوا میں سانس لینے کی آزادی، 50 ہزار مکینوں ملے گا فائدہ

رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ اور کانگریس ترجمان سچن ساونت کی کوششوں سے کامیابی

ممبئی: ریلوے اور مہاراشٹر حکومت کی زمین کی ملکیت کو واضح کرنے کے لیے دوبارہ سروے کیا جائے گا، جس کی وجہ سے باندرہ ایسٹ کے بہرام پاڑہ، نوپاڑہ، گھاس بازار، اور غریب نگر علاقوں کے ہزاروں رہائشیوں کی از سرِ نو ترقی کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اس سے شہریوں کو ریلوے کے گھیرے سے آزاد ہو کر کھلی سانس لینے کا موقع ملے گا۔ رکن پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ اور کانگریس کے ترجمان سچن ساونت کی کوششوں کے سبب تقریباً 50 ہزار رہائشیوں کو اس کا فائدہ ہوگا۔

ریلوے اور مہاراشٹر حکومت کے درمیان زمین کی ملکیت کے تنازعے کی وجہ سے باندرہ ایسٹ کے بہرام پاڑہ، نوپاڑہ، گھاس بازار، اور غریب نگر کے رہائشیوں کی زندگی مشکلات کا شکار تھی۔ مقامی حکومتی نمائندے اس مسئلے کا حل نکالنے میں ناکام رہے تھے۔ چونکہ زمین زیادہ تر ریلوے کی ملکیت تھی اس لیے ترقیاتی کام بھی رکے ہوئے تھے۔ تاہم کانگریس کے ترجمان سچن ساونت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پہل کی۔

ریلوے کے اپنے حلف نامے اور ملکیتی دستاویزات کے مطابق ریلوے کے پاس 137 ایکڑ زمین ہے، جیسا کہ ویسٹرن ریلوے نے بار بار واضح کیا ہے۔ لیکن ملکیت کی فہرست میں مجموعی طور پر 204 ایکڑ زمین ریلوے کے نام پر دکھائی گئی ہے۔ ساونت نے یہ معاملہ ممبئی سب اربن کے ڈسٹرکٹ کلیکٹر کے سامنے اٹھایا، جس کے نتیجے میں ریلوے کی زمین کی پیمائش کی جائے گی اور باقی 67 ایکڑ زمین مہاراشٹر حکومت کے نام پر کی جائے گی۔ ساونت نے 2 اگست 2024 کو ممبئی سب اربن کے ڈسٹرکٹ کلیکٹر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں یہ مطالبہ کیا تھا، جس میں رہائشیوں کا ایک وفد بھی شامل تھا۔

ساونت کے اس مطالبے کے بعد 23 ستمبر کو ڈسٹرکٹ کلکٹر ممبئی سب اربن کو سرویئرز کی جانب سے بھیجے گئے ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ 2013 میں کی گئی زمین کی ملکیت کا سروے مکمل طور پر غلط اور سنگین خامیوں کا حامل تھا۔ ایم پی ورشا تائی گائکواڑ نے مقامی رہائشیوں کے وفد کے ساتھ ڈسٹرکٹ کلیکٹر سے ملاقات کی اور دوبارہ سروے کا مطالبہ کیا۔ ڈسٹرکٹ کلیکٹر نے ریاستی حکومت کی جانب سے دوبارہ سروے کے احکامات جاری کرنے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر ایم پی گائیکواڑ نے کہا کہ کانگریس کی کوششوں سے ایک پیچیدہ مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ اب جو سروے ہو گا اس میں 2013 کی غلطیوں کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ رہائشیوں کو اس عمل میں شامل کیا جائے تاکہ کوئی غلطی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں ہونے کے باوجود کانگریس کی وجہ سے 50 ہزار رہائشیوں کی زندگی اور مستقبل کا مسئلہ حل ہو رہا ہے جس کا مجھے حد درجہ اطمینان ہے۔

سچن ساونت نے کہا کہ ریلوے اور مہاراشٹر حکومت ہی صرف اس مسئلے میں شامل نہیں ہیں، بلکہ رہائشی بھی اس سے جڑے ہوئے ہیں۔ لہٰذا رہائشی نمائندوں کو اس عمل میں شامل کیا جائے، جس پر ڈسٹرکٹ کلیکٹر نے رہائشیوں سے مشاورت کا وعدہ کیا۔ ساونت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر 67 ایکڑ زمین آزاد ہو جائے تو صرف 25 ایکڑ زمین پر رہائشیوں کی دوبارہ آبادکاری کی جا سکے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading