آر ایس ایس اپنے ترمیم شدہ نظریات کی بات کیوں کرنا چاہتی ہے؟

0 4

نئی دہلی 24 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جب ہندوستان کے دوسرے وزیراعظم لال بہادر شاستری تھے تو آر ایس ایس کی کہانی کچھ اِس طرح تھی۔ گولوالکر شاستری سے ملاقات کے لئے بے تاب تھے۔ انھوں نے اُن سے خواہش کی تھی کہ ناگپور میں تنظیم کے ہیڈکوارٹرس کا دورہ کریں۔ وزیراعظم نے کہاکہ اگر وہ وہاں جاتے ہیں تو اُنھیں آر ایس ایس کا آدمی قرار دیا جائے گا، اِس لئے بہتر ہوگا کہ آپ دہلی آجائیں۔ شاستری نے مبینہ طور پر سنگھ کے سنچالک کی خواہش پر اپنا جواب روانہ کیا تھا۔ اُنھوں نے شاستری کے جواب پر عمل کیا یا نہیں تاہم اِس سے اُجاگر ہوتا ہے کہ آر ایس ایس طویل عرصہ سے سیاست میں ملوث ہوتی آرہی ہے۔ 1925 ء میں کے بی ہیڈگیوار نے اِس کی بنیاد رکھی تھی۔ 1948 ء میں اِس شبہ پر کہ وہ مہاتما گاندھی کے قتل میں ملوث ہے، اِس پر امتناع عائد کردیا گیا۔ بعدازاں اُس کے بے گناہ ثابت ہونے کے بعد امتناع برخاست کردیا گیا۔ اِس دوران اُس پر بہت سخت وقت گزرا۔ وہ اپنا ’’فرقہ واریت‘‘ کی شہرت سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکی۔ اِسے الگ تھلگ ہوجانا پڑا۔ اب ایک اور امتناع سے پریشان آر ایس ایس نے اپنے اطراف ایک خول تیار کرلیا۔ اِس کی شاکھائیں بند عمارتوں میں قائم ہوگئیں اور اِس کے پرچارک شہ سرخیوں میں آنے سے گریز کرنے لگے۔ وزیراعظم جواہرلال نہرو کی جانب سے سرکاری طور پر اِس کو قبول کرلیا جبکہ آر ایس ایس سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف ٹریفک کے انتظامات میں حصہ لے اور 1962 ء سے جنگی بحران کے دوران سیاست میں ملوث نہ ہو۔ بعدازاں 1963 ء کی یوم جمہوریہ پریڈ میں اِس نے شرکت کی۔ اس کے باوجود آر ایس ایس کے بارے میں لوگوں کے خیالات تبدیل نہیں ہوئے حالانکہ اُس نے قومی دارالحکومت دہلی میں اپنا ہیڈکوارٹر قائم کرلیا۔ تاہم وہ اِس کے باوجود زیرنگرانی رہی۔ اس کی سرگرمیوں میں وارناسی، کلیان آشرم سے اضافہ دیکھنے میں آیا جو کوریئر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی تھی۔ بھارتیہ مزدور سنگھ نامور لیبر یونین بن گئی۔ ودیا بھارتی نے تعلیمات کے شعبہ میں اپنی چھاپ چھوڑی اور اے بی وی پی نے بھی کالج کے احاطوں میں اپنے اثرانداز ہونے کا ثبوت دیا اور سیوا بھارتی ایک رضاکارانہ تنظیم بن گئی۔ جس کے ارکان مدد کے لئے آفات سماوی سے متاثرہ علاقوں کو دوڑ پڑتے تھے۔ یہ صرف بھارتیہ جن سنگھ کا سیاسی الحاق تھا جو بعد میں بی جے پی کا الحاق بن گیا۔ اِس پارٹی نے شہرت حاصل کرلی جبکہ اِس کے دروازے مسلمانوں اور عیسائیوں کے لئے کھول دیئے گئے۔ 1970 ء کی دہائی سے اِن دونوں طبقات کو بھی اِس کی رکنیت دی گئی۔ اس کے بعد 1990 ء کی دہائی میں سوشل انجینئرنگ کی گئی تاکہ آر ایس ایس کے صرف برہمنوں کے لئے شبیہہ کو تبدیل کیا جاسکے اور اِسے وسیع تر ارتکاز کے ذریعہ اُس پر عمل آوری کی جانی چاہئے۔ اِس کے باوجود ایودھیا تحریک چلی جبکہ یہ واجپائی کا دور تھا اور بی جے پی کو 2004 ء میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ سنگھ پریوار نے اپنی حلیف اسوسی ایشنس کو آگے آنے کی ہدایت دی اور اُنھیں فوری طور پر پس منظر پر توجہ مرکوز کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ سوئم سیوکوں کو جنھیں مختلف گروپس میں عارضی طور پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ اپنے نظریات کی ترویج کریں اور ہندوتوا کا اُن الزامات کی صورت میں دفاع کریں کہ وہ اقلیت میں ہے، فسطائی تنظیم ہے اور متعصب اور پسماندہ نظر آتی ہے۔ چنانچہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے دہلی میں تین دن تک خاص طور پر غیر سنگھی سامعین کے سامنے لیکچر دیا۔ اپوزیشن نے کہاکہ وہ 2019 ء کے انتخابات سے پہلے نریندر مودی زیرقیادت بی جے پی کو قابل قبول بنانا چاہتی ہے لیکن آر ایس ایس کا موقف یہ تھا کہ وہ درحقیقت ایک اصلاحی کورس کا ایک حصہ ہے جو اُس نے 2011-12 ء میں شروع کیا تھا جبکہ بھگوا دہشت گردی اور ہندوتوا دہشت گردی جیسی اصطلاحات یو پی اے کے وزراء نے پریوار کے لئے استعمال کرنا شروع کردی تھی۔ اس نقطہ نظر کے ساتھ اصلاحی پروگرام میں 30 سال کی تاخیر ہوگئی تھی۔ آر ایس ایس کی خدمات کے پراجکٹ یا ’’سیوا کاریاس‘‘ کی تعداد اب دس ہزار سے 1.7 لاکھ ہوگئی تھی۔ اِس نے جنوب اور شمال مشرق میں بھی اپنے قدم جمالئے تھے۔ بی جے پی کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑا کردار ادا کرنے کے لئے منتخب کرلیا گیا۔ پریوار کا ایجنڈہ شمال مشرقی ہندوستان میں آج کل مقبول بی جے پی کو پہلے سے زیادہ بڑی پارٹی بنانا ہے۔ پریوار کا ایجنڈہ قومی مباحث کا مرکزی موضوع بن چکا ہے۔ موہن بھاگوت کے لیکچر ذرائع کے بموجب اصلاحی پروگرام کا ایک حصہ تھے۔ چنانچہ بھاگوت نے کہاکہ انگریزی دشمن نہیں ہے۔ اِس سے ہندو رویہ کے محور پر گھومنے والی تنظیم کے نظریات میں تبدیلی ظاہر ہوتی ہے۔ وہ جنوبی اور مشرقی ہندوستان کے لئے اِس میں کشش پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ کانگریس کے کردار کے لئے تحریک آزادی کی تعریف کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ غیر سیاسی کردار کا مقصد اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی ہندوتوا سے ظاہر ہوتا ہے کہ آر ایس ایس کا شعور بیدار ہوگیا ہے اور وہ طبقات کو اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے کیوں کہ اِس کی تہذیبی قوم پرستی پورے ہندوستان پر اثرانداز نہیں ہوسکتی۔ اِسی طرح ہجومی تشدد گائے کی حفاظت کے بہانے ایک بے لچک موقف کا پیغام دیتا ہے۔ آر ایس ایس کے جارحانہ رویہ کے قطع نظر اُس کے اقدامات اپنے آپ کو لچکدار ظاہر کرنے کے لئے ہیں۔ موہن بھاگوت کا کہنا ہے کہ سنگھ پریوار بات چیت کرنا چاہتا ہے اور اِس تنظیم میں جمہوریت ہے۔ وہ یہاں کی پوری آبادی پر اکثریت کو مسلط نہیں کرنا چاہتا۔ گولوالکر کے ابتدائی تین مقاصد یہی تھے۔ اگر آر ایس ایس قائدین کا یقین کیا جائے تو داخلی طور پر انقلابی تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اور موقف تبدیل ہورہے ہیں۔ آر ایس ایس کے نامور قائدین جیسے رتن شاردا، سنگھ کے قائدین اور پرچارک گولوالکر کے دور کی بہ نسبت دوگنے ہوچکے ہیں اور اُنھیں خالص فرقہ پرست نہیں کیا جاسکتا۔ گولوالکر کا نظریہ آر ایس ایس کو ایک غیر سیاسی تنظیم بنائے رکھنا تھا۔ تبدیلیاں اتنی تیز رفتار نہ ہوتیں اگر یو پی اے نے اپنے دور میں آر ایس ایس پر دہشت گرد سرگرمیوں کا الزام عائد نہ کیا ہوتا۔ خاص طور پر جب کہ یہ اطلاعات منظر عام پر آئیں کہ خود موہن بھاگوت کو غیر معروف گروپس کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں جو سمجھتے تھے کہ سنگھ کی ہندوتوا بہت نرم ہوچکی ہے اور مبینہ طور پر ہندو کاز کے برعکس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آر ایس ایس جو صرف قبل ازیں قراردادیں منظور کیا کرتی تھی، اب اپنے ’’شاکھا کے غار‘‘ میں بیٹھی ہوئی 2014 ء کے لوک سبھا انتخابات کا تجزیہ کررہی ہے اور اپنی ہندوتوا کو بچانے انتخابی حکمت عملی کا تعین کررہی ہے تاکہ ہندوتوا کے نظریہ کو اور موہن بھاگوت کو بچایا جاسکے۔ اُنھیں دیگر تمام سابقہ رویہ کی کوششوں کو تبدیل کرنے کی فکر لاحق ہوگئی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ آر ایس ایس کو ہندوستان میں مقبول بنادیں اور اِس کے فلسفہ کو عوام کا پسندیدہ فلسفہ بنادیں جیسا کہ شاردا نے کہا ہے کہ اِس کا قبل ازیں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔