فرانکوئیس ہالیندے جو گزشتہ برس مئی میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے، نے ہندوستان کے دورے کے موقع پر بیان دیا تھا کہ جیٹ طیارے بنانے والی کمپنی ڈیسالٹ ایوی ایشن کو حکومت نے مقامی شراکت دار کے حوالے سے انتخاب کا کوئی موقع نہیں فراہم کیا۔
خیال رہے کہ نریندر موودی کی حکومت نے ڈیسالٹ سے 36 ریفال جیٹ خریدنے کا معاہدہ کیا تھا جس نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس منصوبے کے لیے سرکاری دفاعی کمپنی (ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ) کے بجائے کاروباری شخصیت انیل امبانی سے شراکت داری کررہے ہیں۔
چند روز قبل سابق فرانسیسی صدر نے انکشاف کیا تھا کہ ڈیسالٹ کو اس سودے میں شراکت داری کے لیے اختیار ہی نہیں دیا گیا تھا، جس کے بعد اپوزیشن کے اس دعویٰ کو تقویت حاصل ہوگئی کہ بھارتی حکومت نے امبانی کو مدد فراہم کی،کیوں کہ امبانی مودی کے حمایتی اور انہی کی ریاست سے تعلق رکھتے ہیں۔
اس سلسلے میں فرانس کے ماتحت وزیر خارجہ جین بیپتستے لیمائن کا کہنا تھا کہ فرانس اور بھارت کے درمیان اہم بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے سمندر پار دیے گئے اس بیان سے کسی کو فائدہ نہیں پہنچے گا، اورسب سے زیادہ یہ فرانس کے لیے بہتر نہیں۔
ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ اب وہ اقتدار میں نہیں ہیں اسلیے بھارت اور فرانس کے تعلقات کے بارے میں ایسا بیان دینا جس سے بھارت میں تنازع کھڑا ہو مناسب نہیں ہے۔
خیال رہے کہ سابق فرانسیسی صدر نے یہ بیان مفادات کے ٹکراؤ کے حوالے سے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے دیے کیوں کہ امبانی گروپ کی ریلائنس کمپنی نے جزوی طور پر ان کی خاتون دوست کی فلم کی پیشکش میں معاونت کی تھی۔
یہ بات مدِ نظر رہے کہ فرانسیسی کمپنی کی جانب سے ریلائنس کو ایک اعلیٰ دفاعی معاہدے میں شراکت دار بنانے پر ملک میں حیرت کی لہر دوڑ گئی تھی کیوں کہ مذکورہ کمپنی کو اس سے قبل اس قسم کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔
فرانسیسی صدر کے اس بیان نے ملک میں ہنگامہ برپا کردیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں خاص کر کانگریس پارٹی نے بھارتی وزیراعظم نریند مودی کو ’چور‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ وزیراعظم کے عہدے کے تقدس کا معاملہ ہے۔