مہاراشٹر میں امیتابھ بچن واکشے کمارکے فلموں وشوٹنگ چلنے نہیں دیں گے: ناناپٹولے

ممبئی: مودی حکومت نے پٹرول، ڈیژل وکوکنگ گیس کی قیمتوں میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ آج پٹرول 100روپئے لیٹر تو کوکنگ گیس سلینڈ 800روپئے کا ہوچکا ہے جس سے عام آدمی کا جینا مشکل ہوگیا ہے۔ مودی سرکار کے خلاف لوگ غم وغصے کا اظہار کررہے ہیں۔ جب مرکز میں یو پی اے کی حکومت تھی تو پٹرول وڈیژل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف امیتابھ بچن واکشے کمار سمیت کئی سلیبریٹی نے ٹوویٹ کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کی تھی، لیکن آج پٹرول وڈیژل کی قیمتیں یوپی اے حکومت کے دور سے زیادہ ہوچکی ہیں تو ان سلیبریٹیز نے اپنے ہونٹ کیوں سی لیے ہیں۔اب ان کے ہاتھ ٹوویٹ پر کیوں نہیں چلتے؟۔ ہم بی جے پی کے اشاروں پر ٹوویٹ کرنے والے امیتابھ بچن واکشے کمار کی فلمیں اب ہم مہاراشٹر نہیں چلنے دیں گے اور ان کو شوٹنگ نہیں کرنے دیں گے۔ یہ انتباہ آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے دیا ہے۔ وہ مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور مرکزی حکومت کے زرعی قوانین کے خلاف بھنڈارہ میں منعقدہ ایک عظیم الشان ٹریکٹر وبیل گاڑی ریلی سے خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کے زیرقیادت یوپی اے کی حکومت ایک جمہوری حکومت تھی جو آئین کے مطابق چل رہی تھی۔ اس لیے امیتابھ بچن واکشے کمار سمیت کئی سلیبریٹیز نے حکومت کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ آج اس ٹولے کو مودی سرکار کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت ہے مگر وہ بی جے پی کے ہاتھوں کا کھلونا بنے ہوئے ہیں۔ مہنگائیو کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے خلاف اب نہیں بول رہے ہیں، اس لیے کانگریس نے بی جے پی کے ان طوطوں کے خلاف جارحانہ موقف اختیار کیا ہے۔

ناناپٹولے نے مزید کہا کہ کسانوں کے احتجاج کو پوری دنیا کے سلیبریٹیز حمایت کررہے ہیں مگر ہمارے یہ سلیبریٹیز ٹوویٹ کرکے مودی حکومت کی پیٹھ تھپتھپارہے ہیں۔ 85 دنوں سے کسان دہلی کی سرحدوں پر سخت سردی میں احتجاج کررہے ہیں۔ بی جے پی اور اس کی آئی ٹی سیل نے اس احتجاج کو خالصتانی، نکسلوادی، آتنک وادی قرار دے کر اسے بدنام کرنے کی کوشش کی۔ اس وقت بھی ان سلیبریٹیز نے کانوں پر جوں نہیں رینگی اور ان کے ہونٹ نہیں کھلے۔ لیکن بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے اشاروں پر انہوں نے کسانوں کے خلاف ٹوویٹ کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سلیبریٹیز بی جے پی آئی ٹی سیل کے طوطے ہیں؟