الیکشن کمیشن کا فیصلہ پارٹی کے آئین اور دونوں فریق کے دلائل کے بعدمیرٹ کی بنیاد پرہو گا: سنیل تٹکرے

ممبئی: جس طرح ہمیں اپنی بات کہنے کا حق ہے، اسی طرح ہم نے جو موقف اختیار کیا ہے اس پر انہیں بھی بحث کرنے کاحق ہے۔ اس لیے دونوں فریق کی جانب سے پیش کیے جانے والے دلائل، پارٹی کے آئین اور میرٹ کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کو فیصلہ کرنا ہوگا۔ آج پہلی سماعت تھی، آئندہ بھی دلائل پیش کیے جاتے رہیں گے۔یہ باتیں این سی پی کے ریاستی صدر وممبرپارلیمنٹ سنیل تٹکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہیں۔

سنیل تٹکرے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے ہمارے قانونی ماہرین کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے۔ فریق مخالف کی جانب سے کچھ اعتراضات کیے گئے تھے جنہیں الیکشن کمیشن نے خارج کردیا اورمیرٹ کی بنیاد پر سماعت شروع کی ہے۔ ہمارے وکلاء کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ آئندہ سماعت ۹/اکتوبر کو شام ۴بجے ہونے والی ہے۔تٹکرے نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے سماعت کے دوران یہ اعتراض بھی سامنے آیا کہ انتقال ہوچکے شخص کا حلف نامہ پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اس وقت ایک ہی حلف نامہ دکھایا گیا۔ ہمارے وکیل نے جو حلف نامہ پیش کیا اس میں ڈیتھ سرٹیفکٹ ہے جو حلف نامہ داخل کرنے والے کا نہیں بلکہ اس کے والد کا ہے۔ یہ جرح ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ جو بھی بحث کی جائے گی وہ سامنے آجائے گی۔دوسرے فریق کے اعتراضات سنے گئے جنہیں الیکشن کمیشن نے رد کردیا ہے۔ اس لیے میرٹ کی بنیاد پر سماعت ہورہی ہے۔

سنیل تٹکرے نے کہا کہ ہر ایک کو اپنی رائے پیش کرنے کا حق ہے اور ہر کسی کو بحث کرنے کا حق ہے۔ لیکن الیکشن کمیشن خودمختار ہے اس لیے وہ جو بھی فیصلہ کرے گا دلائل سننے کے بعد ہی کرے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے جو حلف نامہ پیش کیا گیا ہے اس کے بارے میں الیکشن کمیشن آئندہ وضاحت کرے گا، اس لیے کچھ دن مزید انتظار کرنا پڑے گا۔تٹکرے نے کہاکہ ہمارا جو بھی موقف ہے ہم نے 30جون کو ایک پٹیشن کے ذریعے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کردیا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر صحافیوں سے کہا کہ الیکشن کمیشن میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading