ہندوستانی نژاد خاتون کو امن کا نوبل انعام، ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر مایوسی

نیویارک:امن کے نوبل انعام 2026 کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ہندوستانی نژاد جنوبی افریقی قانون داں اور جج ناوانیتھم ناوی پلے کو اس باوقار اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ انہیں بین الاقوامی قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ اور امن کے فروغ کے لیے طویل عرصے تک انجام دی گئی خدمات کے اعتراف میں یہ انعام دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر امن کا نوبل انعام حاصل نہیں ہو سکا۔

ناوی پلے کون ہیں؟

ناوی پلے 1941 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ہندوستانی تمل نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نسلی امتیاز کے دور میں قانون کے شعبے میں اپنی شناخت قائم کی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ جنوبی افریقہ کی اعلیٰ عدالت میں جج رہ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں بھی خدمات انجام دیں۔

ناوی پلے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سابق سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔ ان کی قانونی خدمات کا اہم مقصد جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی جیسے سنگین معاملات میں ذمہ دار افراد کو جواب دہ بنانا اور متاثرین کو انصاف دلانا رہا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے تحفظ میں اہم کردار

نوبل کمیٹی کے مطابق ناوی پلے نے اپنی طویل پیشہ ورانہ زندگی میں بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے طاقتور ریاستوں اور بااثر شخصیات کو بھی قانون کے دائرے میں جواب دہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔ اس کمیشن نے غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں سے متعلق نسل کشی کے الزامات پر رپورٹ پیش کی تھی، جسے اسرائیل نے مسترد کیا تھا۔ ناوی پلے کی خدمات میں جنسی تشدد کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق اہم قانونی پیش رفت بھی شامل ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ کو پھر نہیں ملا امن کا نوبل انعام

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ گزشتہ کئی ماہ سے امن کا نوبل انعام حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ رہا ہے کہ انہوں نے مختلف بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے اور جنگوں کو رکوانے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

7 اکتوبر 2026 کو بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں امن کا نوبل انعام ملنا چاہیے، تاہم انہوں نے اس بات پر شبہ ظاہر کیا تھا کہ کمیٹی انہیں اس اعزاز کے لیے منتخب کرے گی یا نہیں۔ اب 9 اکتوبر کو ناوی پلے کے نام کا اعلان ہونے کے بعد ٹرمپ کی یہ امید پوری نہیں ہو سکی۔

287 نامزدگیوں میں سے انتخاب

امن کے نوبل انعام 2026 کے لیے ناروے کی نوبل کمیٹی کو مجموعی طور پر 287 نامزدگیاں موصول ہوئی تھیں، جن میں 208 افراد اور 79 ادارے شامل تھے۔ ان تمام نامزد امیدواروں میں سے ناوی پلے کا انتخاب کیا گیا۔یہ اعزاز بین الاقوامی تنازعات کے حل، انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کرنے والوں کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ناوی پلے کی کامیابی کو ہندوستانی نژاد برادری کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading