حوثیوں کا سعودی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ، شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور

یمن میں حوثی گروپ انصار اللہ اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جاری کشیدگی میں اضافے کے دوران حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے اور تعز پر ایک سعودی ڈرون بھی مار گرایا ہے۔

دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ شام، سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں ممکنہ فوجی تعاون کے مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
حوثیوں کے ترجمان کے مطابق حملہ جمعرات کو کیا گیا، تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب چند روز قبل اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے ایک حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کی اطلاع دے چکا ہے۔

ادھر یمنی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سعودی حمایت یافتہ فورسز، جن میں ہوم لینڈ شیلڈ فورسز، جائنٹس بریگیڈز اور مشترکہ افواج شامل ہیں، نے ملک کے کئی محاذوں پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے اور حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔

اسی تناظر میں خبر رساں ادارے روئٹرز اور امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ شام، سعودی عرب کو فوجی معاونت فراہم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق زیر غور تجاویز میں دفاعی تعاون سے لے کر حوثیوں کے خلاف برسرِ پیکار یمنی فورسز کی مدد کے لیے شامی اہلکاروں کی ممکنہ تعیناتی تک مختلف آپشنز شامل ہیں۔

ایک امریکی اہلکار کے مطابق سعودی عرب نے دمشق سے حوثیوں کے خلاف جنگ میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ تاہم ایک شامی سفارت کار کا کہنا ہے کہ شام اس وقت بنیادی طور پر اپنی داخلی ترجیحات، بحالی اور تعمیرِ نو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

شامی سفارت کار نے کہا کہ اگر سعودی عرب کسی قسم کے فوجی تعاون یا مہارت کے تبادلے کی درخواست کرتا ہے تو اس پر دونوں ممالک کے درمیان موجود سرکاری اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت غور کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق شام کی کسی بھی ممکنہ شمولیت سے تنازع کے فرقہ وارانہ اور علاقائی پہلو مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے خبردار کیا کہ شامی فورسز اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست تصادم حساس نوعیت کے علاقائی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے، جس سے تمام فریق گریز کرنا چاہتے ہیں۔

شام کے عبوری سربراہ احمد الشارع نے حال ہی میں ریاض کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ مبصرین کے مطابق دمشق اور ریاض کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون شام کی عرب دنیا میں دوبارہ شمولیت اور علاقائی سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

دوسری جانب یمن میں جاری زمینی کارروائیوں کے باوجود سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش رفت محدود بتائی جا رہی ہے، جبکہ حوثی سعودی عرب کے اندر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading