ایکناتھ شندے کو بڑا جھٹکا؟ سپریم کورٹ کے ایک سوال سے معاملے میں نیا موڑ؟ شیوسینا کیس میں بڑا ٹوئسٹ

نئی دہلی (ایجنسی) شیوسینا کے نام اور انتخابی نشان سے متعلق تنازعہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کے فیصلے اور قانون ساز اکثریت کو بنیاد بنانے کے طریقہ کار پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ شندے گروپ کی جانب سے سینئر وکیل نیرج کشن کول نے انتخابی کمیشن کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا۔ تاہم جسٹس جوی مالیا باگچی نے سوال کیا کہ اگر عدالت اسپیکر کے فیصلے کو غلط قرار دیتی ہے تو اس کا اثر انتخابی کمیشن کی جانب سے شندے گروپ کو شیوسینا کا نام اور ’کمان اور تیر‘ کا نشان دینے کے فیصلے پر کیا ہوگا۔

سماعت کے دوران کول نے شندے گروپ کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی کمیشن نے صرف ارکان اسمبلی کی تعداد کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا، بلکہ ووٹوں کے تناسب اور پارلیمنٹ و اسمبلی میں دونوں گروپوں کی عددی طاقت سمیت مختلف پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابی کمیشن کو آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت سیاسی جماعت کے تنظیمی ڈھانچے اور جمہوری کردار کا جائزہ لینے کا اختیار حاصل ہے۔

کول نے سیاسی جماعت کے اندرونی جمہوری نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق انتخابی کمیشن 1990 کی دہائی سے سیاسی جماعتوں کے آئین میں جمہوری اصولوں کی پابندی پر زور دیتا آیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ شیوسینا کے 2018 کے ترمیم شدہ آئین کی نقل انتخابی کمیشن کے ریکارڈ میں موجود نہیں تھی، اسی لیے تنظیمی اکثریت کا جائزہ لینے میں مشکلات پیش آئیں اور کمیشن نے قانون ساز اکثریت کو اہم بنیاد بنایا۔

سپریم کورٹ کا اہم سوال

سماعت کے دوران عدالت نے اس بنیادی سوال پر توجہ مرکوز کی کہ کیا شیوسینا کے نام اور انتخابی نشان کا فیصلہ صرف قانون ساز اکثریت کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔ عدالت پہلے بھی یہ سوال اٹھا چکی ہے کہ انتخابات میں ووٹر بنیادی طور پر سیاسی جماعت کو ووٹ دیتا ہے، ایسے میں اگر منتخب نمائندے بعد میں اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کرلیں تو کیا ان کی تعداد کو اسی جماعت کی عوامی حمایت کا درست عکاس تصور کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس جوی مالیا باگچی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر اسپیکر کی جانب سے شندے گروپ کے ارکان اسمبلی کو نااہل قرار نہ دینے کا فیصلہ بعد میں غلط ثابت ہوتا ہے تو کیا انتخابی کمیشن کے جانب سے انہیں پارٹی کا نام اور انتخابی نشان دینے کے فیصلے پر دوبارہ غور ضروری نہیں ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی دریافت کیا کہ اگر قانون کے مطابق ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دیا جانا چاہیے تھا تو ایسی صورت میں انہیں حاصل ہونے والے انتخابی نشان کے فیصلے کا کیا اثر ہوگا۔

عدالت نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ انتخابی کمیشن کے فیصلے کو اپنی صوابدید سے تبدیل کرنے کی بات نہیں کررہی، لیکن کمیشن نے اپنے اختیار کا استعمال کس طریقے سے کیا اور کیا تمام متعلقہ پہلوؤں اور ممکنہ متبادل راستوں پر غور کیا گیا، اس کا عدالتی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ انتخابی کمیشن نے 17 فروری 2023 کو شندے گروپ کو شیوسینا کا نام اور ’کمان اور تیر‘ کا انتخابی نشان دیا تھا۔ کمیشن نے تنظیمی اکثریت کے بجائے قانون ساز ونگ کی عددی طاقت کو اہم بنیاد بنایا تھا۔ شندے گروپ کے پاس 40 ارکان اسمبلی جبکہ ٹھاکرے گروپ کے پاس 15 ارکان اسمبلی تھے۔ لوک سبھا میں بھی شندے گروپ کے 13 ارکان جبکہ ٹھاکرے گروپ کے 5 ارکان تھے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات سے یہ معاملہ مزید اہم ہوگیا ہے، تاہم عدالت نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ عدالت کا حتمی فیصلہ کس کے حق میں ہوگا۔