پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں مراٹھا ریزرویشن کا مسئلہ حل کیا جائے:ودھیاچوہان
حکومت او بی سی اور مراٹھابرادری کے درمیان تنازعہ پیدا کررہی ہے
ممبئی:ریاست میں گزشتہ کئی دنوں سے مراٹھا ریزرویشن کے لیے احتجاج وبھوک ہڑتال جاری ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ریاستی حکومت مرکزی حکومت سے مطالبہ کرے کہ 18 سے 22 ستمبر تک ہونے والے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے بڑھائے۔ اس سے مراٹھا برادری کو 16/ فیصد ریزرویشن دینے کی راہ ہموارہوگی۔ ملک کی دیگر 8 ریاستوں میں بھی 50 فیصد کی حد کی وجہ سے ریزرویشن دینے میں دشواری ہورہی ہے۔ مودی ہے تو ممکن ہے کا نعرہ لگانے والی بی جے پی سے ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا پارلیمنٹ میں 50فیصد کی حد کو وہ بڑھائے گی؟ یہ سوال راشٹروادی کانگریس پارٹی کی ترجمان ودھیاچوہان آج یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی صرف ووٹ کی سیاست کے لیے ذات پات اور مذاہب کے درمیان دراڑ پیدا کرتی ہے۔بی جے پی اگر واقعی مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینا چاہتی ہے تو اسے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں یہ مسئلہ اٹھانا چاہیے۔سچائی یہ ہے کہ حکومت ریزرویشن کے ذریعے او بی سی اور مراٹھا برادری کے درمیان تنازعہ پیدا کررہی ہے۔دھنگربرادری کا ریزرویشن مرکز کی جانب سے محض اس لیے رکا ہوا ہے کہ مرکز میں دھنگر کے بجائے دھنگڑ درج ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس خصوصی اجلاس میں سدھار کیا جائے۔
ودیا چوہان نے مزید کہا کہ آزاد میدان میں بھی لوگ بھوک ہڑتال پر ہیں۔ حکومت نے 4 دن میں بھوک ہڑتال کرنے والے مظاہرین سے ملاقات تک نہیں کی۔ آزاد میدان سے منترالیہ بہت دور نہیں ہے، لیکن کسی نے معمولی نوٹس تک نہیں لیا ہے۔حکومت کی طرف سے نوجوانوں کی بھوک ہڑتال کا حل ضروری ہے۔ لیکن ریاستی حکومت کو عام لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
