وزیراعلیٰ کا بی کے سی کاجلسہ مکمل طور پرفلاپ، اندھیری ضمنی انتخاب میں شیوسینا کے امیدوار کو این سی پی کی حمایت
ممبئی:’نہ کھاؤنگا اور نہ کھانے دونگا‘ کا اعلان کرتے ہوئے اقتدار میں آنے والے نریندرمودی کے ریلوے کی وزارت میں کنٹریکٹ ملنے کے لیے اورائیکل نامی کمپنی کے ذریعے ۴لاکھ ڈالر کی رشوت دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے لیے یونائیٹیڈ اسٹیٹس سیکوریٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن نے مذکورہ کمپنی پر 23ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ چونکہ یہ رشوت محکمہ ریلوے میں کنٹریکٹ ملنے کے لیے دیا گیا ہے اس لیے اس کی سی بی آئی کے ذریعے تفتیش کرائی جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کیا ہے۔
پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مہیش تپاسے نے مزید کہا کہ محکمہ ریلوے میں کنٹریکٹ کے لیے جب چارلاکھ روپئے کی رشوت دیا گیا تو اس وقت محکمہ ریلوے کے وزیر پیوش گوئیل تھے۔ لیکن اتنے بڑی بدعنوانی پر نہ تو وزارت ریلوے نیاورنہ ہی حکومت نے کوئی نوٹس لیا اور نہ ہی اس پر اپنا موقف واضح کیا۔ اس لیے چارلاکھ ڈالر کی بدعنوانی کرتے ہوئے جنہوں نے کنٹریکٹ دیا، ان کی تفتیش کی جائے اور سچائی عوام کے سامنے لائی جائے۔ اسی کے ساتھ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ پیوش گوئیل اس بدعنوانی کے بارے میں اپنا موقف واضح کریں۔
بی کے سی میں وزیر اعلیٰ کا جلسہ مکمل طور پر ناکام
مہیش تپاسے نے کہا کہ ایکناتھ شندے نے بی کے سی کے میدان میں اپنادسہرہ جلسہ منعقدکیا جو درحقیقت مکمل طو رپر ناکام ثابت ہوئی۔ تپاسے نے کہا کہ اس جلسے سے ریاست کے عوام کو بہت سی امیدیں تھیں کہ وزیر اعلیٰ ریاست سے خطاب کرتے وقت ریاست کے مفاد کے لیے کوئی منصوبہ یا پالیسی پیش کریں گے، لیکن منصوبہ پیش کرنا تو دور، وزیر اعلیٰ اپنی تقریر میں کسی پالیسی کا اعلان تک نہیں کرسکے۔اس جلسے میں خودکشی کرنے والے کسان خاندان کے کسی فرد کو مدعوکیا جاتا تو اس خاندان کی دلجوئی ہوئی ہوتی لیکن چمپا تھاپا کو مدعو کرکے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے خودکشی کرنے والے کسان خاندانوں کے افراد کی توہین کی ہے۔
تپاسے نے کہا کہ ایکناتھ شندے نے اپنی تقریر میں این سی پی اور کانگریس پر تنقید کی، وہ ضرورتنقید کریں لیکن لوگوں نے مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے ڈھائی سال کے دوران ایکناتھ شندے کو وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا ہے اور اس دوران ممبئی اور مہاراشٹر کے مفاد کے لیے کیے گئے تمام فیصلوں میں شندے شامل تھے۔ اس لیے آج جو وہ این سی پی وکانگریس پر تنقید کررہے ہیں، اس سے انہوں نے خود اپنی وقعت عوام میں کھودی ہے۔سیاست میں اور وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرتے ہوئے ریاست کے لوگوں کو ایکناتھ شندے سے بہت زیادہ توقعات تھیں، لیکن یہ تمام توقعات ناکام ہو گئیں۔ مہاراشٹر کے لوگوں کو شک ہے کہ اس حکومت کے نظریاتی دیوالیہ پن کو ایک بڑے اجتماع سے بھی پیش نہیں کیا جا سکا۔بی کے سی گراؤنڈ میں لوگ کیسے آئے؟ اس کوپوری ریاست نے دیکھا۔
اندھیری ضمنی انتخاب میں شیو سینا کو این سی پی کی حمایت
اندھیری مشرق کے ضمنی انتخاب میں ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کو این سی پی کی جانب سے عوامی حمایت حاصل ہے اور ریاستی صدر جینت راؤ پاٹل اور محترم شرد پوار صاحب نے ایسی ہدایات دی ہیں۔ اس لیے ہمیں یقین ہے کہ شیو سینا کی یہ سیٹ بھاری ووٹوں سے منتخب ہوگی۔ بی جے پی نے اس الیکشن میں اپنے آپ کو شیو سینا کہنے والوں سے بھی نہیں پوچھا اور بی جے پی نے اپنے امیدوار کا اعلان کر دیا ہے۔ تپاسے نے کہاکہ مہاوکاس اگھاڑی نے شیو سینا کی اس سیٹ کو زبردست ووٹوں سے منتخب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تپاسے نے کہا کہ 2019 میں جب مہاوکاس اگھاڑی کی تشکیل ہوئی،تو این سی پی و کانگریس نے ادھو ٹھاکرے کی حمایت کی تھی۔ ان کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے ادھو ٹھاکرے کا نام ملک کے ٹاپ پانچ وزرائے اعلیٰ میں آیا۔ شندے کا جو دھڑا اب بنا ہے وہ ایک سیاسی سازش کا حصہ ہے۔ اس لیے اصل شیو سینا ہی بالا صاحب اور ادھو ٹھاکرے کے خیالات کی شیو سینا ہے۔