منتخب حکومت کے آئینی عہدے دار کے لئے ’وارننگ‘ جیسے الفاظ کا استعمال قابلِ مذمت ہے: آنند پرانجپے

انجلی دمانیا کو ’اینگر مینیجمنٹ‘ کا مرض، علاج کی ضرورت

ممبئی: مہاراشٹر میں عوام نے جس جمہوری اختیار کے تحت مہایوتی حکومت کو منتخب کیا ہے، اس کے آئینی عہدے داروں کے خلاف ’وارننگ‘ جیسے الفاظ کا استعمال نہ صرف نامناسب ہے بلکہ عوامی مینڈیٹ کی توہین بھی ہے۔ یہ شدید ردعمل این سی پی کے چیف ترجمان آنند پرانجپے نے انجلی دمانیا کے بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے بارے میں بے بنیاد زبان استعمال کرنا جمہوری آداب سے گری ہوئی حرکت ہے۔

آنند پرانجپے کے مطابق انجلی دمانیا نے اگلے 24 گھنٹوں کے اندر اندر نائب وزیر اعلیٰ کے منصب کے ساتھ ساتھ پونے کے نگراں وزیر کے عہدے سے بھی اجیت پوار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، حالانکہ کابینہ میں کون ہوگا اور کون نہیں، یہ مکمل طور پر وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کا آئینی اختیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دمانیا این سی پی اور اس کے قومی قائد اجیت پوار کے خلاف تعصب، بدگمانی اور انتقامی جذبات کے تحت مسلسل بے بنیاد الزامات عائد کر رہی ہیں۔ پرانجپے نے نشاندہی کی کہ آج ہی کے دن ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے اس ملک کو آئین دیا تھا اور اس آئین ہی کے ذریعے قائم جمہوریت کی بنیاد پر ریاست کی موجودہ حکومت منتخب ہوئی ہے۔ ایسے میں دمانیا کی جانب سے نائب وزیر اعلیٰ کو ’وارننگ‘ دینا جمہوریت کے مزاج کے خلاف ہے اور غیر شائستگی کی انتہا ہے۔

آنند پرانجپے نے کہا کہ دمانیا نے ایل آئی او معاملے، زمین لیز پر لینے اور اسٹامپ ڈیوٹی معافی جیسے کئی الزامات آج عوام کے سامنے رکھے، لیکن اگر واقعی ثبوت ہیں تو انہیں ایس آئی ٹی چیف وکاس کھڑگے کے حوالے کرنا چاہیے تاکہ غیر جانبدارانہ تفتیش ہوسکے۔ لیکن شکایت خود کرنا، تفتیش خود کرنا اور پھر خود ہی فیصلے سنانایہ دمانیا کا ہمیشہ کا طریقہ ہے۔ انجلی دمانیا کے اس بیان پر کہ اگر اجیت دادا 24 گھنٹے میں استعفیٰ نہیں دیتے تو وہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کا وقت لے کر ان کے دفتر میں بیٹھیں گی، پرانجپے نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ اجیت دادا عام شہریوں سے بھی ملتے ہیں، اگر دمانیا ملاقات چاہتی ہیں تو وہ وقت دلوا دیں گے، مگر امیت شاہ انہیں وقت دیں گے یا نہیں، یہ نہیں معلوم، لیکن اجیت دادا ضرور ملیں گے۔

پرانجپے نے کہا کہ وزیراعلیٰ فڈنویس پہلے ہی دن ایس آئی ٹی قائم کر چکے ہیں اور ایف آئی آر بھی درج ہوچکی ہے، ایسے میں دمانیا کو انتقامی جذبات میں آکر بے سروپا الزامات نہیں لگانے چاہئیں۔ دمانیا دراصل ریاستی انتظامیہ پر عدم اعتماد ظاہر کررہی ہیں، ورنہ نائب وزیر اعلی کے استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے تو کووڈ کے دور میں ریاست کی تباہ حال معیشت کو جس مضبوطی سے سنبھالا، اس کی کھلے عام وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کے اندر تعریف کی تھی۔ اس کے باوجود دمانیا مسلسل الزامات عائد کر رہی ہیں، جو بدقسمتی کے سوا کچھ نہیں۔

NCP Urdu News 26 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading