مودی حکومت مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے سی بی آئی، ای ڈی، انکم ٹیکس اور این آئی اے کے غلط استعمال کرتی ہے
ڈاکٹر آنند تلتمبڑے کا ’جمہوریت: احساس یا حقیقت‘کے موضوع پر تلک بھون میں خطاب
2014 اور 2019 میں عالمی خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت، 2024 میں مودی کے انتخاب کا عمل بھی سوالات سے گھرا ہوا ہے: کمار کیتکر
ممبئی: مشہور دانشور ڈاکٹر آنند تلتمبڑے نے آئین کے یومِ تاسیس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت کی آئین و جمہوریت مخالف طرزِعمل پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ۲۰۱۴ میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیرِاعظم دفتر (پی ایم او) کو ملک کا سب سے طاقتور مرکز بنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں نہ صرف کابینہ کی اہمیت ختم ہوئی بلکہ پارلیمنٹ کو بھی پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ گزشتہ گیارہ برسوں میں مودی نے آئین، قوانین، ضابطوں اور خود مختار اداروں کو اس طرح کمزور کیا کہ اب ملک کا پورا ڈھانچہ ان کے ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔
ممبئی کے تلک بھون میں یومِ آئین کے موقع پر ’جمہوریت: احساس یا حقیقت‘ کے عنوان سے ایک اہم پروگرام کا انعقاد ہوا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر تلتمبڑے نے الزام لگایا کہ حکومت مخالف ہر آواز کو خاموش کرنے کے لیے سی بی آئی، ای ڈی، انکم ٹیکس، این آئی اے اور الیکشن کمیشن جیسے اداروں کو سیاسی ہتھیار بنا دیا گیا ہے اور یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے مخالفین کو گھیر کر سیاسی جگہ ختم کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج حالات یہ ہیں کہ نہ وزیر کی کوئی حیثیت باقی ہے اور نہ سیکریٹری کسی بات کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ انہیں پی ایم او سے حکم نامہ ملتا ہے کہ فیصلہ وہیں ہوچکا ہے۔ ماضی میں بھی پی ایم او موجود تھا مگر مودی نے تمام اختیارات کو یکجا کرکے اسے ایک مرکزی اتھارٹی میں بدل دیا ہے۔ تلتمبڑے کے مطابق یہ مرکزیت اب اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ خود مختار اداروں میں تقرریاں، ترقیاں اور پالیسی سازی کے تمام اختیارات بھی پی ایم او نے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں۔ الیکشن کمشنر کی تقرری کا اختیار قانون بدل کر اپنے قبضے میں لینا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
ڈاکٹر تلتمبڑے نے کہا کہ ملک میں آج غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور مودی نے پورے ڈھانچے کو جس طرح سمیٹ کر رکھا ہے، اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ گیارہ برس کی تبدیلیوں کے بعد نظام کو دوبارہ اصل حالت میں لانا شاید ممکن نہ رہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی حیرت ظاہر کی کہ دنیا میں یہ واحد مثال ہے کہ کوئی وزیرِاعظم گیارہ سال تک ایک بھی پریس کانفرنس نہ کرے۔ وہ صرف ’من کی بات‘ کے ذریعے یک طرفہ گفتگو کرتے ہیں اور سوالات کا سامنا کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جمہوریت کی روح ہی سوال اور جواب ہے مگر ملک میں آج یہی حق چھینا جا رہا ہے۔
اس پروگرام کی صدارت سینئر صحافی اور سابق رکنِ پارلیمنٹ کمار کیتکر نے کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آئین ساز کمیٹی انتہائی نازک دور میں تشکیل دی گئی تھی۔ ۱۹۴۶ میں کمیٹی بنی، ۱۹۴۷ میں ملک کو آزادی ملی، ۱۹۴۸ میں گاندھی جی کا قتل ہوا اور عالمی سطح پر سرد جنگ کا آغاز ہوچکا تھا۔ اس پس منظر میں یہ تاثر عام تھا کہ ہندوستان آزادی برقرار نہیں رکھ پائے گا، کئی حصے بن جائیں گے اور برطانیہ کی خواہش بھی یہی تھی کہ ریاستیں آزاد چھوڑ دی جائیں تاکہ ملک متحد نہ ہو سکے۔ کمار کیتکر نے الزام لگایا کہ ۱۹۶۷ میں جب سات ریاستوں میں کانگریس مخالف حکومتیں بنیں تب بھی سی آئی اے نے ہندوستان کو کمزور کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ ان کے مطابق ۲۰۱۴ کی انتخابی فضا میں بھی بین الاقوامی طاقتوں نے کردار ادا کیا تاکہ کانگریس دوبارہ اقتدار میں نہ آسکے۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ۲۰۰۹ میں ۲۰۶ نشستیں جیتنے والی کانگریس ۲۰۱۹ میں ۵۲ اور ۲۰۲۴ میں صرف ۴۴ پر کیسے آگئی؟ ان کا کہنا تھا کہ سی آئی اے اور موساد جیسی ایجنسیاں اس پورے منظرنامے کے پیچھے تھیں اور وہ ہندوستان میں اپنے موافق حکومت لانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
کمار کیتکر نے مزید کہا کہ ۲۰۲۴ میں بی جے پی کو واضح اکثریت نہ ملنے کے باوجود نہ تو پارلیمانی پارٹی کی باضابطہ میٹنگ ہوئی اور نہ ہی مودی کو قائد منتخب کیا گیا۔ این ڈی اے کی ایک رسمی میٹنگ دکھا کر حلف برداری کا عمل مکمل کر لیا گیا اور آج ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس کے پیچھے کوئی بیرونی ہاتھ ہے جس کے مفادات ہندوستان کی اندرونی سیاست پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ اس پروٖگرام میں کانگریس کے سینئر رہنما، وکلا اور متعدد کارکن بھی شریک تھے۔ پوری نشست میں ملک کے موجودہ سیاسی ماحول، جمہوری اداروں کے بحران اور آئین کی بقا سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ جمہوریت کی اصل روح کو بچانے کے لیے عوام کی بیداری ناگزیر ہے۔
MPCC Urdu News1. 26 November 25.docx