یومِ آئین کے موقع پر اہلیہ نگر میں آئین کا قتل، کانگریس ضلع صدر کا اغوا اور مارپیٹ

فڈنویس کے قریبی ساتھیوں کی پشت پناہی میں رادھا کرشن وکھے کی غنڈہ گردی: ہرش وردھن سپکال

ممبئی: اہلیہ نگر ضلع کانگریس کے صدر سچن گُجر کے اغوا اور وحشیانہ مارپیٹ کی سنگین واردات نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچادی ہے۔ یومِ آئین کی صبح جب پورا ملک دستور کے احترام کا عہد دہرا رہا تھا، اسی وقت بی جے پی کی لوکل باڈی پر یہ الزام عائد ہوا کہ اس نے کانگریس کے ضلع صدر کو نہ صرف اغوا کرایا بلکہ ان پر سنگین تشدد بھی کیا۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے اس واقعے کو ’آئین و جمہوریت کا کھلا قتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ 26/11 کے حملے کی تاریخ کو چن کر فڑنویس کے قریبی لوگوں نے سیاسی مخالفین کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کی ہے، مگر کانگریس اسے کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔

ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی کی ریاستی قیادت اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو براہِ راست کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل نگَر میونسپل الیکشن سے قبل کانگریس کے دو مقامی امیدواروں کو راتوں رات گرفتار کرکے کَسٹڈی میں مارا گیا اور پھر پولیس خود انہیں سابق بی جے پی ایم پی سُجَے وکھے پاٹل اور وزیر رادھا کرشن وکھے پاٹل کے پاس لے گئی، جہاں ان پر دباؤ ڈالا گیا۔ سپکال کے مطابق اس طرح کے معاملات کسی سیاسی فلم کے منظر کی طرح لگتے ہیں، مگر افسوس کہ حقیقت بن چکے ہیں۔

کانگریس صدر نے کہا کہ فڑنویس کی کارروائیوں کا انداز ناتھورام گوڈسے جیسا منصوبہ بند معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے فڈنویس کو ’درندہ‘ کہا تھا تو بی جے پی کو سخت ناگواری ہوئی تھی، لیکن اہلیہ نگر کا واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ وہ الفاظ بے بنیاد نہیں تھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بی جے پی کو نہ آئین کی پروا ہے، نہ جمہوریت کی۔ وہ آمریت یعنی طاقت کے زور پر حکومت چلا رہی ہے۔

سپکال نے انتباہ دیا کہ اقتدار کا نشہ اترنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ بی جے پی کے غنڈوں کو لگام ڈالنے کی قانوناً اور اخلاقاً ذمہ داری وزیر اعلیٰ کی ہے۔ اگر سیاسی مخالفین کو آزادانہ الیکشن لڑنے کا حق بھی چھین لیا گیا تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا مہاراشٹر میں اب بھی جمہوریت باقی ہے؟ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ کانگریس اس واقعے پر خاموش نہیں بیٹھے گی اور پوری شدت سے قانونی و سیاسی محاذ پر لڑائی لڑے گی، کیونکہ یہ معاملہ نہ صرف ایک فرد پر حملہ ہے بلکہ پورے ریاستی جمہوری نظام پر حملہ ہے۔

بی جے پی کے دورِ حکومت میں یومِ آئین منانا بھی جرم بنا دیا گیا: زینت شبرین

آئین کی تمہید پڑھنے سے پہلے ہی ممبئی پولیس نے یوتھ کانگریس عہدیدار کو حراست میں لیا

ممبئی: ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کی حکومت میں اب آئین کا دن منانا اور اس کی تمہید پڑھنا بھی جرم سمجھا جانے لگا ہے۔ آج ممبئی یوتھ کانگریس کے ایک عہدیدار کو محض اس لیے پولیس نے حراست میں لے لیا کہ وہ آئین کی تمہید پڑھنے والے تھے، جو نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ براہِ راست جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔ آئین اور جمہوریت کی آواز دبانے کی ہر کوشش کا کانگریس بھرپور اور مسلسل مقابلہ کرے گی۔

زینت شبرین نے کہا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی ووٹ چوری کے مسئلے پر کھل کر بات نہ کرسکیں، اس کے لئے 272 ریٹائرڈ آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی آر ایس افسران نے ان پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے ایک عوامی خط لکھا تھا۔ انہی افسران میں شامل اے کے گوتَم کی ممبئی رہائش گاہ کے باہر آج یوتھ کانگریس اجتماعی طور پر آئین کی تمہید پڑھ کر انہیں جمہوری اور دستوری قدروں کی یاد دلانا چاہتی تھی، لیکن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس پروگرام کو روک دیا اور اسے سخت انداز میں دبانے کی کوشش کی۔

خبر کے مطابق یوتھ کانگریس کے عہدیداروں کو پولیس نے میرین ڈرائیو سے حراست میں لیا اور بعد میں آزاد میدان منتقل کر دیا۔ لیکن اس کے باوجود یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے اپنے پروگرام سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے آزاد میدان اور بعد ازاں منترالیہ کے قریب ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے اجتماعی طور پر آئین کی تمہید پڑھی۔ زینت شبرین نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پولیس کے ذریعے جو کیا ہے وہ افسوسناک، قابلِ مذمت اور جمہوریت کے منہ پر طمانچہ ہے، مگر کانگریس کا آئین کے دفاع کا سفر رکے گا نہیں، بلکہ اور مضبوط ہوگا۔

MPCC Urdu News 26 November 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading