ممبئی: بی آر ایس پارٹی جس مقصد کے لیے مہاراشٹر میں آ رہی ہے وہ پہلے ہی واضح ہوچکاہے۔ ریاست کے لوگ خوب سمجھدار ہیں، اس لیے ان کی گاڑیوں کے اس طرح کے قافلے کی آمد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے سی آر پر تنقید کرتے ہوئے یہ باتیں سابق وزیر جتیندر اوہاڈ نے کہیں ہیں۔وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس پارٹی کے نعرے میں ’اب کی بار کسان سرکار’،’اب کی بار دلت سرکار‘ کا ذکر ہے۔ لیکن کسان کا مطلب مہاوکاس اگھاڑی ہے۔ اس لیے بی آر ایس دلت ووٹ کو کاٹنے کی کوشش کرے گی۔ اگرچہ دلتوں میں مختلف طبقات ہیں لیکن اب دلتوں میں اتحاد دیکھا جا سکتا ہے۔ آج کے پڑھے لکھے نوجوان آئین اور ریزرویشن کے بارے میں ڈاکٹر امبیڈکر کے تئیں مثبت موقف اختیار کر رہے ہیں۔ جتیندر اوہاڈ نے یہ بھی یاد دلایا کہ منڈل کمیشن کو سیاسی طور پر قبول کرنے والے پہلے شخص شردپوارتھے جنہوں نے بابا صاحب امبیڈکر کے خواب کو پورا کیا۔
جیتندراوہاڈ نے کہا کہ این سی پی کا اوبی سی پریم اگردیکھنا ہے تو سب عمدہ مثال میں خود ہوں جبکہ بی جے پی نے چندرشیکھر باون کولے کو ٹکٹ تک نہیں دیا تھا۔ این سی پی میں اے بی فارم براہ راست گھر پر آتا ہے جبکہ باون کولے کو بی جے پی نے ٹکت نہیں دیا۔ اس لیے ذات پات کی نچلے درجے کی سیاست براہ مہربانی کوئی نہ کریں۔