- تلنگانہ پیٹرن پر لوگوں کو پھنسانے کی کوشش، ہم جلد ہی بے نقاب کریں گے: نانا پٹولے
-
پنڈھار پور کی واری عقیدت اورآستھا کا معاملہ ہے۔ کے سی آر کو اس کا سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے
-
بی جے پی کو پہلے ملک میں 9 سال سے لگی غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے بارے میں بات کرنی چاہیے
-
شندے-فڈنویس حکومت کی ناکامی کی وجہ ممبئی پانی میں ڈوبی، نالوں کی صفائی کے کروڑوں روپے کہاں گئے؟
ممبئی:تلنگانہ میں بھارت راشٹرا سمیتی (BRS) بی جے پی کی بی ٹیم ہے اور اس کا مہاراشٹر کی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ریاست کی عوام جانتی ہے کہ ووٹوں کی تقسیم سے کسے فائدہ ہوتا ہے۔ تلنگانہ میں بی آر ایس پارٹی کے سامنے بڑا مسئلہ کھڑا ہوگیا ہے۔ اس کے کئی لیڈر کانگریس پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ تلنگانہ پیٹرن بھی گجرات پیٹرن کی طرح لوگوں کو پھنسانے کی ایک چال ہے۔ کے سی آر کی پارٹی نے تلنگانہ میں کیا کیا ہے؟ اس کی تمام معلومات کانگریس کے پاس ہے اور ہم جلد ہی تلنگانہ پیٹرن کو بے نقاب کریں گے۔یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔
تلک بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ تلنگانہ سے بھارت راشٹرا سمیتی مہاراشٹر کی سیاست میں گھسنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وارکری اور عوام کو امید ہے کہ مہاراشٹر میں کانگریس کی حکومت آئے گی اور کانگریس کی قیادت میں ہی مہاراشٹر میں حکومت بنے گی۔ کے سی آر نے 9 سال میں تلنگانہ میں کوئی کام نہیں کیا۔ انہوں نے دلتوں، آدیواسیوں، اقلیتوں، پسماندہ طبقات کے لیے کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں لیا۔ابھی بھی تلنگانہ میں پیاز زیادہ مہنگی بتائی جارہی ہے۔وہیں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مہاراشٹر کے کسانوں نے جب تلنگانہ میں پیاز بیچا تو ان کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ کے سی آر حکومت صرف بڑے اعلاناکرتے ہوئے کام کرنے کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، جبکہ سچائی یہ ہے کہ جو لوگ کام کرتے ہیں انہیں اشتہار دینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
ناناپٹولے نے کہا کہ پنڈھرپور میں اساڑھی واری ہو رہی ہے۔ایسی اطلاعات ہیں کہ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے سی آر حیدرآباد سے 600 کاروں کے بیڑے کے ساتھ وہاں پہنچے ہیں۔ پنڈھرپور میں اساڑھی واری پر 10 لاکھ وارکری جمع ہوتے ہیں۔ ایسے میں کیا یہ مناسب ہے کہ کے سی آر باہر سے مزیدلوگوں کو لاکر وہاں بھیڑ کو جمع کررہے ہیں؟ پنڈھر پور کا وٹھوبا عقیدہ اورآستھاکا معاملہ ہے۔ اگر کوئی اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے تو یہ درست نہیں ہے۔
بی جے پی کو ایمرجنسی کے بارے میں بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بی جے پی کو اس بات کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہئے کہ آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کن حالات میں ایمرجنسی نافذ لگایا تھا۔ اس بات پر وہ کیا کہیں گے کہ بی جے پی کی کوئی تاریخ نہیں ہے؟ 1975 میں امریکہ ویت نام کی جنگ شروع ہوئی اور اسی دوران کچھ لوگ ملک میں جمہوریت کو ختم کرنے کی سازشیں کر رہے تھے۔ کچھ لوگ جان بوجھ کر ماحول کوخراب کررہے تھے۔ اگر اندراگاندھی نے ایمرجنسی نہ لگائی ہوتی تو ملک میں جمہوریت باقی نہ رہتی۔ 18 مہینوں کے بعد اندرا گاندھی نے ایمرجنسی ہٹائی اور الیکشن کرائے۔ ان کی کوششوں سے ملک میں جمہوریت کا تحفظ ہوا۔ بعد میں کانگریس پارٹی نے ایمرجنسی کے لیے معافی بھی مانگی تھی۔ لیکن اب ملک میں کیا ہو رہا ہے؟ ایمرجنسی سے بھی زیادہ سنگین حالات ہیں۔ جمہوریت اور آئین پر اقتدار کا قبضہ کیا جا رہا ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کو پہلے ملک میں 9 سال سے لگے غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے بارے میں بات کرے۔ مودی حکومت کے خلاف بولنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاررہی ہے۔ حکومتی تحقیقاتی اداروں کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کو دبایا جا رہا ہے۔ حکومت کے خلاف بولنے والوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ایمرجنسی کے نام پر بی جے پی نوجوانوں کو بھڑکا رہی ہے، اسے فوری طور پر روکا جانا چاہئے۔نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی نے آج ملک کا جو حال کردیا ہے، اس کودیکھتے ہوئے بی جے پی کو ایمرجنسی پر بولنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
پہلی بارش میں ہی ممبئی ڈوب گئی، کہاں گئے کروڑوں روپے؟
پٹولے نے کہا کہ ریاست کی شندے فڈنویس حکومت اعلان اور اشتہاروالی حکومت ہے۔ وہ کچھ نہیں کرتی ہے لیکن اپنی باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ پہلی ہی بارش نے اس حکومت کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ ممبئی میں کئی مقامات پر پانی بھر جانے کی وجہ سے ممبئی والوں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ 6 لوگوں نے اپنی جان گنوانی پڑی۔ ممبئی میں جگہ جگہ گڑھے کھودے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ نالوں کی صفائی اور دیگر کاموں پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔ اس کے باوجود ممبئی پانی میں ڈوب گئی۔سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آخر یہ پیسہ کہاں گیا؟