الیکشن کمیشن اپنا کام درست طریقے سے نہیں کر رہا ہے
ووٹر لسٹ کے حوالے سے ہمارا مطالعہ جاری ہے
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شرد چندر پوار کے قومی صدر شرد پوار نے الزام عائد کیا ہے کہ مرکزی الیکشن کمیشن انتخابی شفافیت قائم رکھنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے اور ریاست میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر گھوٹالے سامنے آ رہے ہیں۔ ممبئی کے یشونت راؤ چوہان سینٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پوار نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں بوگس ووٹروں کے اندراج، فوت ہو چکے افراد کے نام شامل کرنے اور ایک ہی فرد کے بار بار اندراج جیسے سنگین معاملات ثبوتوں کے ساتھ سامنے آئے ہیں، مگر الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی پارٹی ریاست بھر میں اس معاملے کا مطالعہ کر رہی ہے اور بہت جلد عوامی تحریک کے ذریعے سچائی کو منظرعام پر لایا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں پارٹی کے ریاستی صدر ششی کانت شندے، لیجسلیٹیو پارٹی کے لیڈر جینت پاٹل، قومی جنرل سکریٹری اور چیف ترجمان جتیندر اوہاڈ، راجیہ سبھا رکن فوزیہ خان، سابق وزراء راجیش ٹوپے اور ہرش وردھن پاٹل، رکن پارلیمنٹ نلیش لنکے، سابق ایم ایل اے اشوک پوار، خواتین ونگ کی صدر روہنی کھڈسے، یوتھ ونگ کے صدر محبوب شیخ، پونے کے صدر پرشانت جگتاپ اور دیگر لیڈران موجود تھے۔ اس موقع پر شِرور کے امیدوار اشوک باپو پوار اور ہڈپسَر کے امیدوار پرشانت جگتاپ نے باقاعدہ میڈیا کے سامنے دکھایا کہ کس طرح انتخابی عمل میں ووٹوں کی چوری کی گئی۔
شرد پوار نے کہا کہ الیکشن کمیشن آزاد ادارہ ہے مگر اس نے غیر جانبدارانہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ ہمیں کمیشن سے زیادہ توقعات نہیں ہیں لیکن جو کردار اسے ادا کرنا چاہیے تھا، اس نے وہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ راہل گاندھی نے اس معاملے کو سب سے پہلے اجاگر کیا تھا، جس کی شروعات بہار سے ہوئی۔ آج بہار میں ان کی جدوجہد کی ستائش ہو رہی ہے کیونکہ وہ ریاست سیاسی طور پر ہمیشہ باشعور رہی ہے۔
نائب صدر جمہوریہ کے انتخاب پر بات کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ اپوزیشن کے درمیان دو تین ناموں پر غور ہوا تھا اور سب کی رائے ایک جگہ ہوئی، لیکن جب حکمراں پارٹی نے اپنا امیدوار میدان میں اتارا تو وزیر اعلیٰ نے ان سے تعاون کی درخواست کی جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق ہمارے نظریات بالکل الگ ہیں، اس لیے حکومت کی خواہش پر سمجھوتہ ممکن نہیں تھا۔
پارٹی لیڈر جینت پاٹل نے دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ میں سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق کسی ایک گھر میں 18 ووٹر درج ہیں، تو کہیں گھروں کے سامنے 0 یا 00 درج ہے۔ کلکٹر سے شکایت کرنے پر وقت کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ خوش آئند ہے کہ دیویندر فڈنویس نے بھی ووٹر لسٹ میں گڑبڑی کو تسلیم کیا ہے۔ لہٰذا اگر انہیں بھی شبہ ہے تو وہ ہمارے ساتھ آ کر الیکشن کمیشن کو جواب دہ بنائیں۔
چیف ترجمان جتیندر اوہاڈ نے اعلان کیا کہ پارٹی ہارے ہوئے حلقوں میں ووٹ چوری کا پردہ فاش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہر حلقے میں کم از کم 10 سے 15 جعلی نام شامل کیے گئے ہیں۔ ہمارے پاس فی الحال دو حلقوں کی مستند معلومات ہیں۔ جلد ہی عوامی تحریک چلا کر یہ دکھایا جائے گا کہ کس طرح مہاوکاس اگاڑی کو ہرانے کے لیے الیکشن کمیشن کو استعمال کیا گیا۔
شِرور اسمبلی کے امیدوار اشوک باپو پوار نے بتایا کہ کسَنَند گاؤں میں 188 ووٹروں کے نام درج ہیں، مگر کئی افراد وہاں رہتے ہی نہیں اور متعدد نام مردہ افراد کے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگوں کے نام کئی بار دہرائے گئے ہیں۔ ہڈپسَر کے امیدوار پرشانت جگتاپ نے الزام لگایا کہ جون سے ستمبر 2024 کے درمیان 40 ہزار نئے نام ووٹر لسٹ میں درج کیے گئے، جس سے مجموعی طور پر تقریباً 49 ہزار ووٹوں کا گھوٹالہ ہوا۔ میں صرف سات ہزار ووٹوں سے ہارا ہوں جبکہ 43 ہزار ووٹ غلط طریقے سے ڈالے گئے۔ اس پر بارہا ریاستی الیکشن کمیشن نے مرکزی کمیشن کو شکایت کی مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔” انہوں نے کہا کہ “ہم نے بارہا خط لکھے مگر 17A فارم کے تحت ووٹروں کی تفصیل دینے سے بھی کمیشن گریز کر رہا ہے۔
NCP Urdu News 22 August 25.docx