NCP Urdu News 21 July 22

مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے اپوزیشن کی آواز دبانے کی سازش: مہیش تپاسے

ممبئی:مہنگائی، بیروزگاری جیسے سنگین مسائل پر قابوپانے میں ناکام مودی حکومت کے خلاف جب کوئی آواز اٹھاتا ہے تو مرکزی ایجنسیوں کے ذریعے ان کی آواز کو دبانے کی سازشی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کا نظارہ آج ملک میں ہرکوئی کررہا ہے جس میں مرکز کی مودی حکومت ایک منصوبہ بند کوشش کے ذریعے اپوزیشن کو نشانہ بنارہی ہے۔ یہ سنسنی خیزالزام آج یہاں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے چیف ترجمان مہیش تپاسے نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر عائد کیا ہے۔

تپاسے نے کہا کہ 2019میں اسی طرح شردپوار صاحب کو بھی اسی طرح نوٹس دیا گیا تھا، کچھ دنوں قبل شیوسینا کے لیڈر سنجے راؤت، انل پرب کی طرح ملک کی دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کو بھی سمنس دیئے گئے تھے۔ جس میں کانگریس کے لیڈر جناب راہل گاندھی کی تفتیش بھی کی گئی تھی۔ آج کانگریس کی صدر محترمہ سونیا گاندھی کو بھی ای ڈی نے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا ہے۔ ان تمام باتوں پر غور کیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اپوزیشن اور ملک کے عام لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے؟تپاسے نے کہا کہ اس طرح اپوزیشن کی آواز دبانے کی اس کوشش ککی این سی پی سخت مذمت کرتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ جن لیڈروں پر پہلے بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے اورپھر جب وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے تو ان کے خلاف کارروائی کا کیا ہوا؟ اس کا جواب بی جے پی کو دینا چاہئے۔