انضمام کا کوئی سوال زیر غور نہیں، سنیترہ اجیت دادا پوار کی قیادت میں پارٹی کو مضبوط کرنا اور دادا کے ادھورے خواب کو پورا کرنا ہماری اولین ترجیح
ممبئی: راشٹروادی کانگریس کے چیف ترجمان آنند پرانجپے نے کہا ہے کہ اجیت دادا پوار کے المناک طیارہ حادثے کے بعد پارٹی شدید صدمے میں ہے اور کارکنان، عہدیداران اور عوامی نمائندے آج بھی غمزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بھی اپنا عظیم اور محبوب لیڈر کھو یا ہے، ایسے وقت میں ایک دوسرے کو سنبھالنے اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے، نہ کہ سیاسی فائدے کے لیے بیانات دینے کی۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آنند پرانجپے نے این سی پی شرد چندر پوار گروپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انضمام سے متعلق بار بار دیے جانے والے بیانات سے ریاست میں غیر ضروری ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریہ سُلے، روہت پوار اور امول کولہے کی جانب سے انضمام کا معاملہ اٹھانا مناسب نہیں، کیونکہ اس وقت پارٹی کے سامنے ایسا کوئی موضوع زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اجیت دادا پوار کے طیارہ حادثے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ چاہے معاملہ وی ایس آر کمپنی کا ہو، پائلٹ کی ذمہ داری ہو یا کسی تکنیکی خرابی کا، ہر پہلو کی گہرائی سے تفتیش ضروری ہے۔ آنند پرانجپے نے بتایا کہ راشٹروادی کانگریس نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے ملاقات کر کے اس معاملے کی سی بی آئی کے ذریعے جانچ کا باضابطہ مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی جانب سے تحقیقات شروع کی جا چکی ہیں اور بلیک باکس کا ڈیٹا برآمد کیا جائے گا۔
روہت پوار کے بلیک باکس سے متعلق بیان پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح کے غیر واضح بیانات سے شکوک و شبہات کو ہوا ملتی ہے اور عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ امول کولہے کی جانب سے اٹھائے گئے اے بی فارم کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے آنند پرانجپے نے کہا کہ امیدواروں کو انتخابی نشان دینے کا باضابطہ اور قانونی طریقہ کار موجود ہے اور مختلف علاقوں کے لیے مجاز عہدیداران کو دستخط کا اختیار دیا گیا تھا۔ مقامی بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں مختلف سیاسی حالات کے تحت امیدوار مختلف نشانوں پر انتخاب لڑتے رہے ہیں، اسے انضمام سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بعض مقامات پر شرد پوار گروپ کے امیدوار شیو سینا (یو بی ٹی) کے نشان پر الیکشن لڑے تو کیا اسے بھی انضمام کہا جائے گا؟ اس طرح کے بیانات صرف سیاسی انتشار کو بڑھاتے ہیں۔
آنند پرانجپے نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ انضمام کا کوئی سوال زیر غور نہیں ہے۔ 26 فروری کو قومی اجلاس میں سنیترہ اجیت دادا پوار کو قومی صدر منتخب کیا جائے گا اور ان کی قیادت میں پارٹی کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرفل پٹیل، سنیل تٹکرے، چھگن بھجبل، دلیپ ولسے پاٹل، حسن مشریف اور دھننجے منڈے جیسے سینئر لیڈروں کی رہنمائی میں پارٹی اجیت دادا کے وژن کو آگے بڑھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حساس مرحلے پر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جانا چاہیے اور غیر ضروری بیانات سے گریز کرنا چاہیے تاکہ عوام میں کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہو۔