ملکی مفاد گروی رکھ کر کوئی تجارتی معاہدہ منظور نہیں

کسان، توانائی سلامتی اور خود مختاری پر سمجھوتہ ناقابل قبول: سچن پائلٹ

ممئبی: آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری سچن پائلٹ نے ہند-امریکہ مجوزہ تجارتی معاہدے پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مفاد کو گروی رکھ کر کوئی بھی معاہدہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے کسانوں کے مفادات، توانائی سلامتی اور ملک کی خود مختاری کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جسے ملک کے 144 کروڑ عوام ہرگز قبول نہیں کریں گے۔

ریاستی کانگریس کے صدر دفتر تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سچن پائلٹ نے کہا کہ تجارتی معاہدے اقتصادی ترقی کا ذریعہ ہوتے ہیں، مگر ان کی بنیاد برابری اور باہمی مفاد پر ہونی چاہیے۔ اگر کسی معاہدے کی آڑ میں ملک کی خود مختاری، زرعی معیشت یا توانائی تحفظ کو نقصان پہنچتا ہو تو وہ معاہدہ عوامی مفاد کے منافی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کے ساتھ حالیہ فریم ورک ایگریمنٹ میں زرعی منڈی کو امریکی مصنوعات کے لیے کھولنے کی بات کی گئی ہے، جس سے ہندوستانی کسانوں کی روزی روٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ڈیوٹی فری بنیادوں پر امریکی مکئی (DDG)، جوار اور سویا بین آئل کی درآمد سے مقامی پیداوار کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ ہندوستان میں مکئی، جوار اور سویا بین لاکھوں کسانوں کی معاش کا ذریعہ ہیں، جبکہ امریکہ ان اجناس کا کہیں زیادہ پیداوار کرتا ہے۔ اگر درآمدات پر محصول ختم کیا جاتا ہے تو مقامی قیمتیں گرنے کا خدشہ ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی متاثر ہوگی۔

پائلٹ نے کپاس کے شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ امریکہ۔بنگلہ دیش تجارتی سمجھوتے کے تحت بنگلہ دیش کو امریکی کپاس پر مراعات دی گئی ہیں، جبکہ ہندوستانی برآمدات پر محصول برقرار ہے۔ اگر ہندوستان بھی امریکی کپاس ڈیوٹی فری درآمد کرے گا تو اس سے مہاراشٹر، گجرات، تلنگانہ، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں کے کپاس کسانوں کو دوہرا نقصان ہوگا، کیونکہ ایک طرف درآمدات سے مقامی قیمتیں گریں گی اور دوسری جانب برآمدی بازار سکڑ سکتا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) زرعی مصنوعات کی درآمد سے ہندوستانی بیج کی خالصیت اور حیاتیاتی تنوع متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی معاہدے میں ’نان ٹیرف بیریئرز‘ کو ختم کرنے کی شق دراصل کسانوں کو دی جانے والی سبسڈی کم کرنے اور زرعی تحفظات کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

توانائی و سلامتی کے معاملے پر پائلٹ نے کہا کہ روس اور ایران سے سستا خام تیل خریدنا ہندوستان کے مفاد میں رہا ہے۔ اگر تجارتی معاہدے کے تحت ہندوستان کو امریکہ سے زیادہ مہنگا تیل خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا روس سے درآمد محدود کرنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے تو یہ براہ راست توانائی تحفظ اور معاشی خود مختاری پر اثر انداز ہوگا۔ ہندوستان اپنی توانائی ضروریات کا بڑا حصہ روس سے حاصل کرتا رہا ہے اور اس سے اربوں ڈالر کی بچت ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت پر آئندہ پانچ برسوں میں 500 ارب ڈالر کا امریکی سامان خریدنے کی شرط عائد کی جاتی ہے تو کیا یہ مساوی شراکت داری ہے یا دباؤ کی پالیسی؟ انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوام کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ کیا یہ معاہدہ برابری کی بنیاد پر ہے یا یکطرفہ شرائط پر۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ملک کے کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی اور ایسے کسی بھی معاہدے کی مخالفت کرے گی جو قومی مفاد، خود مختاری اور خود انحصاری کے خلاف ہو۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading