مصنوعی ویڈیوز اور آڈیو کلپس کے خلاف راشٹروادی کانگریس کا سخت انتباہ مرحوم اجیت دادا پوار کے نام پر گمراہ کن مواد پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان

ممبئی: راشٹروادی کانگریس پارٹی نے مرحوم اجیت دادا پوار کے نام سے منسوب مصنوعی و جعلی ویڈیوز اور آڈیو کلپس سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس طرح کی گمراہ کن اور مصنوعی مواد کی اشاعت فوراً بند کی جائے، بصورت دیگر متعلقہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

پارٹی کے ریاستی صدر سنیل تٹکرے کی جانب سے جاری ایک باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے مرحوم اجیت دادا پوار کی آواز اور شبیہہ کا غلط استعمال کرتے ہوئے فرضی ویڈیوز اور آڈیو کلپس تیار کیے جا رہے ہیں، جو سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیلائے جا رہے ہیں۔ پارٹی کے مطابق یہ اقدام نہ صرف مرحوم لیڈر کی یاد کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے اور سیاسی و سماجی انتشار کو ہوا دینے کی کوشش بھی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مرحوم اجیت دادا پوار نے اپنی سیاسی زندگی میں مہاراشٹر کے عوام کے دلوں میں عزت، محبت اور اعتماد حاصل کیا تھا۔ ان کے نام اور شخصیت کا اس طرح غلط استعمال کرنا نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ پارٹی نے خبردار کیا ہے کہ ایسے تمام افراد اور عناصر کے خلاف، جو جان بوجھ کر جعلی مواد تیار یا شیئر کر رہے ہیں، متعلقہ قوانین کے تحت فوجداری مقدمات درج کرائے جائیں گے۔

راشٹروادی کانگریس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کسی بھی مشتبہ ویڈیو یا آڈیو کلپ کو بغیر تصدیق کے نہ پھیلائیں اور نہ ہی اس پر یقین کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی قسم کی غیر مصدقہ معلومات کو آگے بڑھانا معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اس لیے ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ مرحوم اجیت دادا پوار کے نام کو سیاسی مفاد یا سنسنی خیزی کے لیے استعمال کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنائے گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی سنجیدگی سے جانچ کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سچائی اور قانونی دائرے میں رہ کر ہی سیاسی اختلافات کا اظہار کیا جانا چاہیے، اور کسی بھی مرحوم شخصیت کے نام کو غلط انداز میں استعمال کرنا نہ اخلاقی ہے اور نہ ہی قانونی طور پر قابلِ قبول۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading