NCP Urdu News 18 Dec 24

جی ایس ٹی معافی اسکیم: تاجروں کے لیے سنہری موقع

جی ایس ٹی تنازعات کا حل: 54 ہزار کروڑ کے سود اور جرمانے معاف، 31 مارچ 2025 آخری تاریخ

ممبئی: مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ اجیت پوار نے اسمبلی میں اعلان کیا کہ مہاراشٹر اشیا و خدمات ٹیکس قانون (جی ایس ٹی) 2017 کے تحت تین مالی سالوں، 2017-18، 2018-19، اور 2019-20 کے دوران ٹیکس مطالبات سے متعلق سود اور جرمانے یا دونوں کو معاف کرنے کی ایک خصوصی اسکیم (Amnesty Scheme) کا نفاذ کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت بقایا ٹیکس رقم کی ادائیگی کے لیے آخری تاریخ 31 مارچ 2025 مقرر کی گئی ہے۔ لیکن اگر اس تاریخ سے قبل بقایا رقم ادا کی جاتی ہے تو تمام سود اور جرمانہ معاف کر دیا جائے گا۔ اجیت پوار نے اس موقع پر تاجروں کو اس اسکیم کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی تلقین کی۔

اجیت پوار نے اسمبلی کو بتایا کہ ریاستی دائرۂ کار کے تحت ٹیکس دہندگان سے تقریباً 1 لاکھ 14 ہزار درخواستیں متوقع ہیں، جبکہ متنازعہ رقم 54 ہزار کروڑ روپے ہے۔ اس رقم میں 27 ہزار کروڑ روپے بطور جرمانہ اور سود شامل ہیں۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں، عام طور پر متنازعہ ٹیکس کا تقریباً 20 فیصد اس طرح کی اسکیموں کے تحت وصول کیا جاتا ہے۔ اس بنیاد پر، توقع کی جا رہی ہے کہ اس اسکیم کے تحت تقریباً 5 ہزار 500 کروڑ سے 6 ہزار کروڑ روپے کی متنازعہ رقم جمع ہو سکتی ہے۔

اجیت پوار نے مزید کہا کہ اس رقم کا نصف، یعنی تقریباً 2 ہزار 700 کروڑ سے 3 ہزار کروڑ روپے ریاستی خزانے میں جمع ہوں گے، جبکہ باقی رقم مرکزی حکومت کو منتقل کی جائے گی۔ اس اسکیم کے ذریعے تاجروں کو تقریباً 5 ہزار 500 کروڑ سے 6 ہزار کروڑ روپے کے سود اور جرمانے سے نجات ملے گی۔ تاجروں، وکلا، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، اور عام شہریوں کو اس اسکیم کی معلومات فراہم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تشہیر کی جا رہی ہے۔ اجیت پوار نے زور دیا کہ اس اسکیم کے نفاذ سے نہ صرف ریاستی ریونیو میں اضافہ ہوگا بلکہ تاجروں کو بھی مالیاتی مسائل سے نجات حاصل ہوگی۔ انہوں نے اسے ریاست کی مالیاتی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم اقدام قرار دیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading